زمین پر کتنی چیونٹیاں ہیں؟ نئی تحقیق سامنے آگئی

حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ کہا گیا ہے کہ زمین پر اس وقت بیس کواڈریلین (20 ہزار ٹریلین) چیونٹیاں موجود ہیں جبکہ کیڑوں مکوڑوں کی کُل تعداد اس سے بہت زیادہ بھی ہو سکتی ہے جو کہ زمین کے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکہ میں ہونے والی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ چیونٹیوں کی کُل آبادی کا تعین ان کی زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں جاننے کیلئے ضروری ہے جن میں سے ایک موسمیاتی تبدیلی کا معاملہ بھی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے نے امریکہ میں ہونے والی اس تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیونٹیوں کی کُل آبادی کا تعین ان کی زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں جاننے کے لیے ضروری ہے جن میں سے ایک موسمیاتی تبدیلیوں کا معاملہ بھی ہے۔

زمینی نظام میں چیونٹیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں، وہ بیجوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں اور شکاری یا شکار کے طور پر بھی کام آتی ہے۔

قبل ازیں عالمی سطح پر بھی چیونٹیوں کی تعداد کے حوالے سے تحقیق ہو چکی ہے تاہم اس وقت چیونٹیوں کی جو تعداد سامنے آئی تھی وہ 20 کواڈریلین سے بہت کم تھی جو کہ 2کروڑ ارببنتی ہے۔

اس نئی تحقیق میں نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے ماہرین نے 465 تحقیقوں کا مطالعہ کیا اور نتیجہ اخذ کیا ہے۔ان تحقیقوں میں مقامی سطح پر چیونٹیوں کی تعداد بتائی گئی تھی۔ ایسی سینکڑوں تحقیقیں ہو چکی ہیں جن میں کسی خاص وقت میں چیونٹیوں کے کسی خاص مقام سے گزرنے والی چیونٹیوں کو محدود کر کے انہیں گنا جاتا تھا یا پھر مختلف پتے رکھ کر ان پر چڑھنے والی چیونٹیوں کا جائزہ لیا جاتا تھا۔تاہم اس کے باوجود چیونٹیوں کی جو تعداد سامنے آتی رہی ہے وہ بہت کم تھی۔اسی لیے یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ عالمی سطح پر چیونٹیوں کی تعداد اندازوں سے بہت زیادہ ہے۔

حالیہ تحقیق کے مطابق’یہ بہت اہم ہے کہ ہم کیڑے مکوڑوں کی متنوع زندگی کے بارے میں جاننے کیلئے معلومات کے خلا کو پر کریں۔‘

اس وقت دنیا میں چیونٹیوں کی پیدرہ ہزار سات سو کے قریب اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ ماہرین کی جانب سے بتائی جانے والی تعداد کو حتمی تصور کرنا ابھی مشکل ہے۔چیونٹیوں کی ان میں سے 2اقسام ایک ہی قسم کے ماحول میں رہتی ہیں جن میں معتدل خطے شمار ہیں۔

مستقبل قریب میں ماہرین ان عوامل اور ماحول پر تحقیق کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جو حشرات الارض پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں