ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی ٰ وہاب کا استعفی دینے کا اعلان

کراچی : ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی مرتضی وہاب نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا۔

ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی مرتضی وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتاکہ محنت کا پھل آنےپر کام سےروک دیاجائے،میرے تمام اسٹیک اس شہر میں ہیں، یہ میونسپل ٹیکس کراچی اور عوام کی بہتری کیلئے تھا۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ باضابطہ طور پر ایڈمنسٹریٹر کےعہدے سےاستعفی دےرہاہوں، اس پریس کانفرنس کےبعد استعفی وزیراعلی سندھ کوارسال کررہاہوں۔انہوں نے کہا کہ میں عہدوں کا محتاج نہیں ہوں ، میں چاہتاتو ایک وسیم اختر کی طرح کیفےپیالہ پر پراٹھےکھاتا تھا۔صبح سےرات تک کام کرتاتھا، ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر لوگ بات کرتےہیں، میں سڑک پر موجود رہ کر کام کررہاتھا۔

ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے کہا کہ یہ اعزاز میری پارٹی نے مجھے دیا ، لوگ نہیں چاہتے کے شہر ترقی کرے، کچھ لوگ چاہتے ہیں دھرنے کی سیاست ہو، پوری کوشش کی کے ایک سال میں شہر کی کی بلا تفریق خدمت کر سکوں ، جو کچھ کر سکا کرنے کی کوشش کی ۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بارش ہوتی تھی تو کوئی کہتا تھا اختیار نہیں ، کوئی ہوٹل پر پراٹھے کھاتا تھا، طوفانی بارشوں کے باوجود بلدیہ عظمی کراچی کی سڑکوں پر کام کرتی رہی ، شہر کو ہم نے بند نہیں ہونے دیا ،بڑی شاہراہوں سے پانی نکالا۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ شہر کا انفرا اسٹرکچر خراب ہوا تو ہم نے سڑکوں کی مرمت کا کام شروع کیا ، اسی بلدیہ عظمی نے مختلف سڑکوں کی پیوندکاری شروع کی، کوشش کی کہ اپنے شہر کی بلاتفریق خدمت کرسکوں۔ میرے لیے سب سےآسان کام کہاتھا کہ وزیراعظم وزیراعلی کو پیسوں کی درخواست کردوں، میرا ایمان ہےکہ قانون کےمطابق چلنا ہے، قانون اجازت دیتاہےکہ بلدیہ عظمی ٹیکس لگائےگی، ٹیکس ہوتا ہےتو انفراسٹرکچر بہترہوتاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سڑکوں پر پانی جمع ہوتاہےتو کےایم سی سےپوچھتےہیں، حکومت کام کرتی ہےتو روک دیاجاتاہے، میونسپل یوٹیلٹی کنزروینسی ٹیکس 5جون 2008کو لگا، اس وقت کراچی کا ناظم مصطفی کمال تھے. 2008سے ایم یو سی ٹی ٹیکس لیاجارہاہے، وسیم اختر کےچار سالہ دور میں میونسپل ٹیکس بیس کروڑ روپے اکٹھاہوتاتھا، ایک ارب روپے کا ہدف اور میونسپل ٹیکس جمع بیس کروڑ ہوتاتھا، وسیم اختر نے کےایم سی ٹیکس جمع کرنےکا ٹھیکہ دیا، نجی کمپنی کو سروس چارج دیاجاتاتھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں