‘جب میں کال دوں گا اس کے بعد کوئی واپسی نہیں ہو گی’

پشاور: سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میری کال کا سارے انتظار کرنا، جب میں کال دوں گا اس کے بعد کوئی واپسی نہیں ہو گی۔

پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) عمران خان نے کہا کہ اسی طرح سارے ڈاکوؤں کے کیسز معاف ہوتے رہے تو کوئی مستقبل نہیں اس ملک میں۔انہوں نے کہا کہ میرے اثاثے میری آمدن سے بڑھ جائیں تو میری ذمہ داری ہے بتانا، انہوں نے وہ قانون بدل دیا۔

عمران خان نے کہا کہ میں اس ملک کے محافظوں سے سوال پوچھتا ہوں، کیا اگر ڈاکو گھر کو لوٹ رہے ہوں تو چوکیدار کہہ سکتا ہے کہ میں نیوٹرل ہوں؟ ،جب بھی کوئی کہے کہ میں غیرسیاسی ہوں تو اس میں اور جانور میں کوئی فرق نہیں ہے، اپنے آپ کو طاقتور بنا کر بیٹھے ہیں محافظ وہ کہتے ہیں ہم نیوٹرل ہیں، ملک کا کیا مستقبل ہو گا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پرائم منسٹر آفس کے جو آڈیو لیکس ہوئی ہیں، ایک دو تین چیزیں سامنے آ گئیں، ابھی بھی مریم داماد کے لیے پیسہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، شہبازشریف کہہ رہا ہے فکر نہ کرو ابھی مجرم اسحاق ڈار آئے گا وہ کر دے گا۔انہوں نے کہا کہ پرائم منسٹر آفس کی سکیورٹی بریچ ہوئی ہے تو مطلب ہمارے دشمنوں کے پاس حساس معلومات چلی گئی ہیں،کون ذمہ دار ہے اس کا؟۔

عمران خان نے خطاب میں کہا کہ اس حکومت کے خلاف کال دے رہا ہوں، مجھے اکیلے بھی نکلنا پڑے تو ان کے خلاف نکلوں گا، نہ مجھے جیل کا خوف ہے نہ جان قربان کرنے کا خوف ہے، میں کسی صورت ان چوروں کو تسلیم نہیں کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ میری کال کا سارے انتظار کرنا، جب میں کال دوں گا اس کے بعد کوئی واپسی نہیں ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں