‘مدد کی بھیک نہیں، عالمی برادری سے ماحولیاتی انصاف چاہتے ہیں’

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مدد کی بھیک نہیں، عالمی برادری سے ماحولیاتی انصاف چاہتے ہیں۔ مالی معاونت قرض کی صورت میں نہیں چاہیئے۔

ممتاز برطانوی اخبار گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ تباہ کن سیلاب آنے کے بعد اُن امیر ممالک سے پاکستان کو مدد کی بھیک مانگنے پر مجبور نہیں کرنا چاہئے جن کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی کے ان مسائل نے جنم لیا ہے۔ مدد کی بھیک نہیں، عالمی برادری سے ماحولیاتی انصاف چاہتے ہیں۔ مالی معاونت قرض کی صورت میں نہیں چاہیئے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت صحت، غذا اور تباہ کن سیلاب سے بے گھر ہونے والے شہریوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ مون سون کی تباہ کن بارشوں سے ایک تہائی پاکستان پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ بعض علاقوں میں 1.7 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ یہ اب تک ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ سب ہورہا ہے۔ ماحول میں زہریلی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا 0.8 فیصد حصہ بنتا ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک اس صورتحال کے اصل ذمہ دار ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف نے مزید کہا کہ ایسی تباہی میں نے کبھی نہیں دیکھی جو حالیہ سیلاب سے پاکستان میں ہوئی ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوکر کھلے آسمان تلے آگئے ہیں۔ وہ اپنے ہی ملک میں مہاجر بن چکے ہیں۔

اربوں کی عالمی امداد اور عطیات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں کہاکہ اگرچہ مزید مدد کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن یہ ’ناکافی‘ ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ تباہی کا حجم اور دائرہ اتنا وسیع ہے جو پاکستان کے اپنے وسائل سے پورا ہونا ناممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں