‘قوم کو اتحاد کی ضرورت ہے، تقسیم کم ہونی چاہیے’

اسلام آباد: صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ قوم کو اتحاد کی ضرورت ہے، تقسیم کم ہونی چاہیے،لیڈران آگے بڑھیں۔

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے 5ویں پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس سال مون سون کی شدید بارشوں کی وجہ سے ایک “سیلاب ِ عظیم ” کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ہمیں شدید نقصان برداشت کرنا پڑا ۔ سیلاب کی وجہ سے اب تک کے اندازے کے مطابق تقریباً 15 سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور گھروں ، عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ زرعی شعبے ، جس سے پاکستان کی ایک بڑی آبادی کا روزگار وابستہ ہے ، کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

اس موقع پر میں سب سے پہلے ان تمام اداروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے سیلاب متاثرین کو بچایا اور انہیں مدد فراہم کی ۔ ان اداروں میں سرفہرست پاکستان کی افواج ہیں جنہوں نے اس بحران میں انتہائی منظم انداز میں لوگوں کی جانیں بچائیں۔

عارف علوی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے اس سیلاب کی شدت اور تباہی ماضی کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔ پاکستان کا موسمیاتی تبدیلی اور عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے ، مگر پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے منفی اور مضر اثرات کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑ رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے ہمارے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچا اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں اور یہ خطرہ ہے کہ اہم فصلیں جس میں چاول ، گندم، کپاس شامل ہیں ، ان کی پیداوار میں کمی واقع ہوگی ۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ڈیموں کی مدد سے سیلاب کے پانی کو محفوظ کر لیں تو نہ صرف خشک موسم میں پانی کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے بلکہ پانی کو محفوظ کرنے کے جدید طریقوں کو اپنا کر ہم زیر زمین پانی کی سطح کو بلند کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کی بڑی کامیابیوں میں دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانا ہے ۔ دہشت گردی کا جس انداز سے پاکستان نے مقابلہ کیا ، دنیا میں کہیں نہیں کیا گیا۔ ہم نے دہشت گردی کو بارڈر تک محدود رکھا حالانکہ ہمارے مغرب میں دہشت گردی کی وجہ سے بڑی تباہی ہوئی۔ دہشت گردی کو شکست دینا ہماری بڑی کامیابی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ایک بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہماری آبادی کا تقریباً 63 فیصد حصہ 15 سے 33 سال کے نوجوان افراد کا ہے جو کہ 35 ملین کے قریب بنتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک بہت بڑی طاقت اور انسانی وسائل موجود ہیں ۔ اگر ان انسانی وسائل اور طاقت کو تعلیم سے آراستہ کردیا جائے اور انہیں قابل ِ قدر اور مناسب مہارتوں سے لیس کردیا جائے تو یہ پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا کو بدل سکتے ہیں ۔ اگر یہی انسانی وسائل اور افرادی قوت غیر تعلیم یافتہ رہیں اور ان کے پاس کوئی ہنر نہ ہو تو یہی آبادی بڑی عمر کو پہنچ کر پاکستان کیلئے بوجھ بن سکتی ہے ۔ لہٰذا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری قوم کیلئے تعلیم بے حد ضروری ہے ۔

صدر عارف علوی نے خطاب میں کہا کہپاکستان سالانہ 30 ہزار کے قریب آئی ٹی گریجوایٹس پیدا کرتا ہے اور اس کے مقابلے میں ہمارا پڑوسی ملک تقریباً 8 لاکھ کے قریب آئی ٹی گریجوایٹس پیدا کرتا ہے ۔ ہم اپنی افرادی قوت کو آئی ٹی کی مہارتیں سکھائے بغیر دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔
صدر پاکستان کا خطاب میں کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے ہماری معیشت کو نقصان پہنچا مگر ہم نے حفاظتی تدابیر اور جزوی لاک ڈاؤن کی مدد سے صورتحال پر کافی حد تک قابو پایا۔ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں طلب اور رسد کے مسائل پیدا ہوئے ۔ یوکرین ،روس جنگ کے عالمی سطح پر بھی اثرات ہوئے اور اس کا پاکستان پر بھی اثر پڑا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ وزیر اعظم اور پچھلی حکومت کے وزیر اعظم بھی اس بات پر زور دیتے رہے کہ ہمیں معاشی اعتبار سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ پچھلے سال ہماری معیشت نے تیزی سے ترقی کی اور 5.97 فیصد کی متاثر کن شرح نمو ریکارڈ کی گئی ۔ ہم نے یہ شرح نمو کورونا وبا ، امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں حکومت کی تبدیلی، روس یوکرین تنازعہ سمیت دیگر مسائل کے منفی اثرات کے باوجود حاصل کی۔ ان مسائل کی وجہ سے ہماری معاشی نمو کو جھٹکا بھی لگا مگر مجھے امید ہے کہ ہم اپنے موجودہ معاشی مسائل پر قابو پالیں گے ۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ موجودہ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان اقدامات سے ملک کو اقتصادی اور مالیاتی مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔ میں دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے ہماری مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں سوشل میڈیا کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ایک بہت بڑا فورم ہے جس کو بند نہیں کیا جا سکتا ۔ ہماری عدالتوں نے بوجوہ غلط فہمی کی بنیاد پر دو سال تک یو ٹیوب کو بند رکھا۔ ایسے اقدامات سے معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا ۔ ٹیکنالوجی پر پابندی لگانے اور سوشل میڈیا میں نوجوانوں اور بچوں کے خلاف کاروائی کرنا مسائل کا حل نہیں ۔یکنالوجی کے فائدے کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہیں اور ہمیں اس کے منفی اور مثبت پہلووں کو بخوبی سمجھنا ہوگا۔

صدر پاکستان نے آڈیو لیکس سے متعلق بات کرتے ہوئے کہ اکہ آج کل آڈیو لیکس سامنے آئی اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے ۔ یہ ایک انتہائی سنگین پیش رفت ہے اور اس پر ہنگامی بنیادوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ فریقین میں سے کسی ایک کی رضامندی کے بغیر فرد (افراد) کے درمیان نجی گفتگو کو عام کرنا اخلاقی اور قانونی طور پر غلط ہے۔ یہ ایک خوش آئند امر ہے حکومت نے اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے کہ آڈیو لیکس کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ میں ہندوستان کے حوالے سے یہ بات کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ ہندوستان کے ساتھ دوستی اور امن ہو، مگر یہ خواہش ہندوستان کے کشمیر میں اقدامات کی وجہ سے پروان نہیں چڑھ سکتی۔ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیاجانا چاہیے ۔ ہندوستان کے ساتھ تمام معاملات خصوصاً کشمیر کے مسئلے پر گفتگو ہونی چاہیے۔ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ساتھ کھڑا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے مسئلے پر میں سمجھتا ہوں کہ نیب کو مضبوط کرنا چاہیے ۔ اس میں ایک تو اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ نیب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیاجائے ۔ دوسرا ، اسے دوسروں پر ظلم اور ناانصافی کیلئے استعمال نہ کیا جائے ۔سوئٹزر لینڈ اور برطانیہ کے قوانین میں بھی یہ چیزیں موجود ہیں کہ وائٹ کالز کرائم کی صورت میں ملزم کو اس بات کا ثبوت دینا ہوتا ہے کہ اسکے پاس دولت کہاں سے آئی ۔

صدر پاکستان عارف علوی نے خطاب میں کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی تقسیم (polarization) کو ختم کرنے کیلئے سب سے بہترین حل منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے ۔ یہ سال انتخابات کا سال ہے تاہم انتخابات کا منعقد کرانا ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ قوم کو اس ہیجانی کیفیت سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاستدان آپس میں بیٹھ کر الیکشن کی تاریخ طے کرلیں ۔

انہوں نے کہا کہ آخر میں سمندر پار پاکستانیوں کا مشکور ہوں کہ وہ اپنی محنت سے کمائی گئی رقوم پاکستان بھیجتے ہیں ۔ ان کے ووٹ کا حق سپریم کورٹ نے بھی قبول کر لیا ہے۔ تقریباً 90 فیصد سمندر پار پاکستانی محنت ، مزدوری اور روزگار کی مجبوری کی وجہ سے باہر جاتے ہیں۔ جو لوگ روزگار کے سلسلے میں باہر مقیم ہیں ان کو ووٹ کیلئے سہولت فراہم کرنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں