پبلک نیوز ہیڈلائنز،رات09 بجے، 08 مارچ 2021

مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف ہمنوا بن گئے۔ سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ ہمیں پارلیمنٹ سے استعفے دینے چاہئیں، انھوں نے مشورہ دیا کہ استعفے دے کر ساری توجہ تحریک پر دینی چاہیے، یہ بھی جمہوری عمل ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ترجمانوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی منظر عام پر آ گئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سینیٹ االیکشن، الیکشن کمیشن کے کردار،علی گیلانی ویڈیو،اپوزیشن کی تنقید پر مشاورت کی گئی، وزیر اعظم نے حکومتی ترجمانوں کو الیکشن کمیشن پر براہ راست تنقید سے روک دیا، وزیراعظم کی ترجمانوں کو ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن سے صرف مطالبہ کریں کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلا، اس کا نوٹس لے۔

پاکستان میں وزارت اطلاعات و نشریات کا جلد ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی متعارف کروانے کا اعلان، اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان سے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر اعظم عمران خان کے ڈیجیٹل میڈیا فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے جنرل مینجر عمران غزالی کی اہم ترین ملاقات۔

پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس سے متعلق الیکشن کمیشن کی سکرونٹی کمیٹی کا اجلاس طلب، سکرونٹی کمیٹی کا اجلاس 10 مارچ کو دن 2.30 بجے طلب کیا گیا ہے، سکرونٹی کمیٹی نے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے

پی ڈی ایم اجلاس کے دوران جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ شاہ اویس نورانی اور پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ میں تلخ جملوں کا تبادلہ، شاہ اویس نورانی نے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمان کو تین سال پہلے صدر کے انتخاب میں اپوزیشن جماعتوں نے کیوں سپورٹ نہیں کیا، قمر زمان کائرہ نے کہا کہ تب تک پی ڈی ایم کا قیام نہیں عمل میں آیا تھا، ہم الگ خیال کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ فضل الرحمان اور شاہد خاقان عباسی نے معاملہ رفع دفع کرایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں