”شہزادی ڈیانا میری قسمت کے بارے میں پہلے سے جانتی تھیں “

ویب ڈیسک: برطانوی شاہی خاندان کے چشم و چراغ شہزادہ ہیری نے انکشاف کیا ہے کہ انکی والدہ لیڈی ڈیانا انکی قسمت کے بارے میں پہلے سے جانتی تھیں، انکی چھٹی حس نے زندگی میں ہی میرے بارے میں کسی خدشے سے مطلع کر دیا تھا۔

شہزادہ ہیری نے کہا کہ لیڈی ڈیانا نے اپنی زندگی میں ہی انکے کچھ رقم چھوڑی تھی تاکہ وہ شاہی خاندان سے جان چھڑا سکیں۔

شہزادہ ولیم نے اوپرا ونفرے کے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ لیڈی ڈیانا نے اپنی زندگی میں انکی  شاہی خاندان سے علحیدگی کی پیشگوئی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ والدہ نے میرے لیے کچھ رقم بھی چھوڑی تھی تاکہ میں شاہی خاندان کے تسلط سے آزادی پا سکوں۔ اس کے علاوہ ڈیانا نے بیٹے کے لیے جیولری سمیت کچھ دیگر چیزیں بھی چھوڑی تھیں۔

یاد رہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مرکل نے اوپرا ونفرے کو دیئے گئے تہلکہ خیز انٹرویو شاہی خاندان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ میگھن مرکل نے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ شاہی خاندان کی جانب سے مجھے چپ کرانے کی کوشش کی گئی، میرے بارے میں شاہی خاندان کے اندر سے جھوٹ بولے گئے، دوسرے لوگوں کو بچانے کے لئے جھوٹ بولے گئے۔

انہوں نے جب میں حاملہ تھی تو کہا شاہی خاندان کے ایک فرد کو فکر تھی کہ ہمارے بچے کی جلد کتنے گہرے رنگ کی ہو گی، شاہی خاندان نے بچے کے رنگ کو لیکر تعصب کا نشانہ بنایا، آرچی کو شہزادے کا شاہی لقب دیا گیا نہ ہی دیگر بچوں کی طرح سیکیورٹی دی گئی۔ انہوں نے کہا سب سے بڑی غلطی اپنی حفاظت کیلئے شاہی خاندان پر یقین کرنا تھا، میرے ذہن میں خودکشی کے خیالات بھی آتے رہے۔

برطانوی شاہی خاندان کی بہو نے کہا ملکہ الزبتھ سے میرے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے، شاہی خاندان اور شاہی خاندان کو بطور ادارہ چلانے والوں میں فرق ہے۔

دوسری جانب برطانوی شاہی خاندان کے سابق سٹاف رکن نے شہزادہ ہیری اور میگھن پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ میگھن کے شاہی خاندان کے سٹاف کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے۔میگھن نے کئی بار سٹاف ممبرز کی تضحیک کی۔کشیدہ تعلقات کی وجہ سے میگھن نے دو ذاتی معاونین کو محل سے نکالا تھا اور یہی وجہ تھی جو جوڑے کا شاہی خاندا ن چھوڑنے کا سبب بنی۔

شاہی محل نے سابقہ سٹاف رکن کی طرف سے ان انکشافات پر تفتیش کا اظہار کرنے کے ساتھ سا تھ لاعلمی بھی ظاہر کی ہے۔ بکنگھم پیلس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں