سپریم کورٹ کا حکومت کو ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ آج ہی درج کرنے کا حکم

صحافی ارشد شریف قتل کیس میں چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی۔سینئیر صحافی ارشد شریف قتل کے معاملے پر سپریم کورٹ نے حکومت کو آج ہی مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔

تفصلات کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ رپورٹ 600 صفحات پر مشتمل ہے ۔ ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے کہ رپورٹ کا جائزہ چیف ایگزیکٹو لیں لیکن رپورٹ عدالت میں پیش کریں، اس کیس میں ہم 48 دنوں سے دیکھ رہے ہیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بنی تھی جو واپس بھی آگئی ہے اس معاملے پر شہید ارشد شریف کی والدہ کا خط بھی آیا ہے، اس معاملے کی ایک رپورٹ وزارت کی جانب سے آنی تھی وہ ابھی تک کیوں نہیں آئی ہے ؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایک رپورٹ ویکنڈ پر ملی ہے، ہم عدالت میں جمع کروائینگے جو کہ وزیر داخلہ فیصل آباد میں تھی، رانا ثناءاللہ کے دیکھنے کے بعد ہی عدالت میں جمع کروائینگے۔چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے کیا کیا؟ آپ کیوں بیوروکریٹک معمالات کو سامنے لا رہے ہیں ، ہم وزیر داخلہ کو بلا لیتےہیں۔ کینیا میں پاکستانی بہت ہیں ، میں بھی ایک بار وہاں گیا ہوں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو رپورٹ کا جائزہ لینے دیں ، جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی ہے ؟ اس کا مطلب ہے کے وزیر داخلہ کو رپورٹ پسند آئی تو پھر جمع کروائینگے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ رپورٹ 600 صفحات پر مشتمل ہے ، ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہے کہ رپورٹ کا جائزہ چیف ایگزیکٹو لیں لیکن رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ اس کیس میں ہم 48 دنوں سے دیکھ رہے ہیں۔ میڈیکل رپورٹ بزات خود اطمینان بخش نہیں ہے اور اس معاملے کو ہم سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ صحافی سچ کی آواز ہیں۔

جو رپورٹ ہے وہ چھپا کر نہیں رکھی جاسکتی، فوری فراہم کی جائے، رپورٹ میں اگر حساس معاملات ہیں تو ان چیمبر بریف کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں، اس کیس کو اہم سمجھ کر 5 رکنی بینچ سماعت کررہا ہے.

سیکریٹری خارجہ اسد مجید بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے ، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی وزارت ہے کہ جس نے کینیا سے کوآرڈینیٹ کرنا ہے،ہماری معلومات کے مطابق کیس میں کوئی بھی ایف آئی آر پاکستان اور کینیا میں درج نہیں کی گئیں ہیں ، جس پر سیکریٹری خارجہ اسد مجید نے جواب دیا کہ ہمارا کینیا میں سفارتخانے سے اعلیٰ سطح رابطہ ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ چیک کرنا چاہیے، بتائیں کہ ایف آئی آر کیوں نہیں درج کی گئی؟ اگر کچھ غلط ہے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے اور کہا ہے کہ از خود نوٹس پر سماعت کل کرینگے، وقت کا بعد میں بتا دیں گے۔از خود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے وزارت خارجہ ، وزارت داخلہ اور اطلاعات کے سیکرٹریز کو نوٹس جاری کیے گئے تھے، ڈی جی آئی بی ، ڈی جی ایف آئی اے اور پی ایف یو جے کے صدر کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں