lahore weather

آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور میں مزید دھند پڑے گی: محکمہ موسمیات

لاہور(پبلک نیوز) صوبائی دارالحکومت لاہور کو سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ دھند نے بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ زمینی و فضائی رابطے معطل اور معمولات زندگی بگڑنے لگے۔ مختلف ٹرینیں اور فلائٹس تاخیر کا شکار ہو گئیں۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے دل لاہور میں دھند کا راج قائم ہے۔  زمینی اورفضائی رابطوں میں دھند کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب آئندہ چوبیس گھنٹوں میں مزید دھند پڑنے کے امکانات کا بھی اظہار کر دیا گیا ہے۔

دھند کے باعث ایک درجن سے زائد پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا۔ کراچی سے لاہورآنیوالی پروازوں کواسلام آباد موڑدیا گیا جبکہ  دبئی سے لاہور آنیوالی ائیربلیو کی پرواز پی اے 411 کو اسلام آباد لینڈنگ کی ہدایت جاری کی گئیں۔ دبئی سے لاہور آنے والی پرواز پی کے 204 کو لاہور میں دھند کے باعث اسلام آباد ائیر پورٹ لینڈ کرایا گیا۔ سول ایوی ایشن  ذرائع کے مطابق سلالہ سے لاہور آنیوالی پرواز کولاہور لینڈنگ سے روک کر اسلام آباد بھیج دیا گیا۔

دوحہ سے آنیوالی پرواز کیو آر 620 کا شیڈول تبدیل کر تے ہوئے  پروازآج رات 12بجے کی بجائےکل دوپہر2 بجے لاہور ائیرپورٹ پہنچے گی۔ دوسری جانب موٹر وے اور نیشنل ہائی وے پر بھی شدید دھند کے باعث آمد و رفت میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ریلوے انکوائری کے پاکستان ریلویز کا آمدورفت کا نظام بھی متاثرہوا۔

لاہور سے جانے والی ٹرینوں کے اوقات کار تبدیل کر دئیے گئے،لاہور سے کراچی جانے والی قراقرم ایکسپریس کو منسوخ  جبکہ پاک بزنس ایکسپریس شام 4 بجے  کی بجائے شام 5 بجے، کراچی ایکسپریس شام 5 بجے کی بجاۓ شام7 بجے اور شاہ حسین  ایکسپریس رات 7 بجکر 30 منٹ کی بجائے رات 9 بجےروانہ کی گئیں۔

کراچی سے آنے والی خیبر میل ایکسپریس 2 گھنٹے 45 منٹ تاخیر کا شکار ہوئی جبکہ گرین لائن ایکسپریس 2 گھنٹے 20 منٹ تیز گام ایکسپریس 2 گھنٹے، علامہ اقبال ایکسپریس 2 گھنٹے 10 منٹ،عوام ایکسپریس 1  گھنٹہ ،ملت ایکسپریس 2 گھنٹے 10 منٹ،پاک بزنس ایکسپریس 3 گھنٹے 40 منٹ تاخییر کا شکار ہوئیں۔

ریلوے انکوائری کے مطابق فرید ایکسپریس 1 گھنٹہ 40 منٹ، جعفر ایکسپریس 3 گھنٹے 40 منٹ قراقرم ایکسپریس 4 گھنٹے 50 منٹ،شاہ حسین ایکسپریس 3 گھنٹے 10منٹ ،پاکستان ایکسپریس 3 گھنٹے 5 منٹ تاخیر کا شکار رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دھند کا راج ایسے ہی قائم رہا تو ٹرینیں کی آمدورفت میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی ممکن حد تک تاخیر ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں