96ء کا سیمی فائنل، بھارتی کرکٹ کا’یوم شرمندگی‘

ویب ڈیسک: بھارت اور سری لنکا کے مابین 1996ء کے ورلڈ کپ میں ادھوے رہ جانے والے سیمی فائنل میچ کو آج 25 سال بیت گئے ہیں۔

کولکتہ میں ہونے والے اس میچ کو کرکٹ کی تاریخ میں ایک افسوناک واقعے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب بھارتی شائقین نے انڈین ٹیم کی شکست کو دیکھتے ہوئے گراونڈ میں جلاؤ گھیراؤ شروع کر دیا جس کی وجہ سے اس میچ کو ادھورا چھوڑا گیا۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ 13 مارچ 1996ء کو ہونے والے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جب بھارت کے شائقین نے سری لنکا کی مستحکم صورتحال دیکھی تو گراونڈ میں بوتلیں اور دیگر اشیاء پھینکنی شروع کر دیں جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو میچ ادھوا چھوڑنا پڑا۔ بعدازاں حکام نے سری لنکا کی ٹیم کو فاتح قرار دیا۔ گراونڈ میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد شائقین موجود تھے۔

میچ میں سری لنکا کی ٹیم نے 251 رنز سکور کیے تاہم ٹارگٹ تک پہنچنے کی تگ و دو میں بھارتی ٹیم سچن ٹنڈولکر کے آوٹ ہونے کے بعد ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور 120 رنز پر 8 کھلاڑیوں کے آوٹ ہونے پر شائقین نے گراونڈ پر بوتلیں برسانی شروع کر دیں اور کچھ بینچر کو بھی آگ لگا دی جس کے بعد میچ ریفری کلائیو لائیڈ نے سری لنکا کی ٹیم کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے انہیں فاتح قرار دیا۔ میچ ریفری کے مطابق یہ فیصلہ مزید کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے کیا گیا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ 1996ء کے ورلڈ کپ میں سری لنکا کی فاتح رہی تھی، لنکن ٹیم نے قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہونے والے فائنل معرکے میں آسٹریلیا کی ٹیم کو شکست دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں