نااہلی کیس: فیصل واؤڈا جذباتی ہو گئے

الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر سماعت کےدوران فیصل واوڈا جذباتی ہو گئے۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران حال ہی میں سینیٹر منتخب ہوئے فیصل واؤڈا نے کہا اگر میری غلطی ہے تو پھانسی لگا دیں، لیکن پہلے مجھے سنیں، میرے خلاف سیاست کی گئی بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، میرا پورا کیریئر ہے فیملی ہے میری ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔

فیصل واؤڈا کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے جیسے اسطرح کی درخواستوں پر ماضی میں ہوتا رہا ہے، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا فیصل واوڈا صاحب! آپ جذباتی ہو رہے ہیں، آپ بیٹھ جائیں۔

دوران سماعت فیصل واوڈا کے وکیل بیرسٹر معید نے اپنے دلائل میں کہا کہ فیصل واوڈا کے مستعفی ہونے کے بعد الیکشن کمیشن سماعت نہیں کر سکتا، الیکشن کمیشن کورٹ آف لاء نہیں ہے، الیکشن کمیشن ٹربیونل بنا سکتا ہے انکوائری کر سکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ریٹرننگ آفیسر اور ٹربیونل میں فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی چینلج نہیں کئے گئے، آرٹیکل 63 ون ایف کا اطلاق کورٹ آف لاء کے فیصلے پر ہوتا ہے۔

وکیل فیصل واوڈا نے مزید کہ عدالتی کاروائی پر ہی نااہلی یا آرٹیکل 63 ون ایف کا اطلاق ہو گا، ایک فوٹو کاپی پر یہ کیس چلایا جارہا ہے، فیصل  واوڈا کے خلاف تمام درخواستیں مسترد کی جائیں ۔

الیکشن کمیشن نے درخواست گزاروں کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں