17

پیپلز پارٹی استعفے اور سندھ حکومت کی قربانی نہیں دیگی: شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اندر خاصی بے چینی ہے اور یکسوئی نہیں۔ پیپلز پارٹی کسی صورت استعفیٰ دینے اور سندھ کی حکومت کی قربانی دینے کیلئے تیار نہیں ہو گی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمر کوٹ میں ضمنی الیکشن کے دوران سندھ حکومت نے انتظامیہ کا بے دریغ استعمال کیا۔ اب وہ مناسب وقت کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ استعفوں کیلئے مناسب وقت تو 2023 کا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں تحریک عدم اعتماد لانے پر واضح اختلاف ہے۔ پیپلز پارٹی کہہ رہی ہے قانون کے مطابق پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد لائیں اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انشاءاللہ ہم پارلیمانی روایات کے مطابق اس کا مقابلہ کریں گے اور انہیں شکست دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اپوزیشن کے دوست قبل ازیں میز پر بیٹھ کر گفتگو کرنے کی بات کر رہے تھے اور آج اپنے ہی مطالبے کی نفی کر رہے ہیں۔ نیب میں ترمیم کیلئے جو انہوں نے 34 نقاطی تجاویز دیں وہ قابل عمل نہیں تھیں۔ پی ڈی ایم کا موقف تضادات سے بھرا ہوا ہے اور اس میں کلیرٹی نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ ہر نئی انتظامیہ کو حق ہے وہ چیزوں کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اس کا واحد راستہ جامع مذاکرات ہیں۔ میرے نزدیک موجودہ امریکی قیادت بھی اس بات کا ادراک ہے۔

انھوں نے بتایا کہ زلمے خلیل زاد کی خدمات جاری رکھنے کا فیصلہ اس طرف اشارہ ہے۔ نئی امریکی انتظامیہ افغانستان میں تشدد میں کمی چاہتی ہے ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ نئی امریکی انتظامیہ کی ترجیحات ہمارے نقطہ نظر سے مطابقت رکھتی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کو میں نے خط لکھ کر اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا ہے۔

اپنی گفتگو میں وفاقی وزیر کہا کہ گزشتہ چار سال میں پاکستان اور خطے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ میری رائے میں چالیس سالوں کے بعد امید کی کرن پھوٹی ہے۔ میں واضح کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ امن کی کاوشوں میں شریک رہیں گے۔ افغانستان میں قیام امن ایک مشترکہ ذمہ داری ہے سارا بوجھ پاکستان پر ڈالنا مناسب نہیں ہو گا۔ اس مسئلے کا اصل حل افغان قیادت کے ہاتھ میں ہے کیونکہ یہ ملک ان کا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے سفارت خانوں میں 80 فیصد افسران وزارت خارجہ سے لیے جاتے ہیں جبکہ باقی 20 فیصد، بمطابق ضرورت، مختلف شعبوں سے لیے جا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے قیاس آرائیاں بلا وجہ ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت ہر بین الاقوامی فورم پر ہم نے مسئلہ کشمیر کو اٹھایا ہے۔ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے یہ بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق بری طرح پائمال کیے جارہے ہیں۔ گذشتہ سترہ ماہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو جیل میں بدل دیا گیا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اس حوالے سے اپنا موثر کردار ادا کرے گی۔ سفارتی سطح پر پچھلے اڑھائی سالوں میں ہمیں بہت سی کامیابیاں ملی ہیں۔ ان اڑھائی سالوں میں جس طرح مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھایا گیا وہ مثالی ہے۔

انھوں نے آگاہ کیا کہ میری رائے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی پابندیوں کے باوجود دنیا کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے واقف ہیں۔ لیکن اگر کہیں پر خاموشی نظر آتی ہے تو وہ مصلحتاً ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا جس قدر مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے آج متحرک ہے اتنا ماضی میں کبھی نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں جس طرح بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں ایسا پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ رائے عامہ بننے میں وقت لگتا ہے۔ کشمیر کا سودا کوئی مائی کا لال نہیں کر سکتا۔ میری اپوزیشن سے ہمیشہ گذارش رہی ہے کہ اس حوالے سے سیاست نہ کریں۔ اگر اپوزیشن کے پاس اس حوالے کوئی اچھی تجویز ہے تو ہم ماننے کیلئے تیار ہیں۔

براڈشیٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں شفاف تحقیقات ہوں۔ یہ معاہدہ کب ہوا کس نے کیا؟ پی ٹی آئی اس کی ذمہ دار نہیں۔ ہم حقائق کی چھان بین چاہتے ہیں۔ جب انکوائری کمیشن بیٹھے گا تو سب کچھ بے نقاب ہو جائے گا۔

بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ بھارت کے ساتھ کوئی بیک چینل رابطہ نہیں ہے۔

دوسری جانب انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم سعودی عرب کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کا ہاتھ تھاما۔ سعودی عرب نے ہمیں بیلنس آف پے منٹ میں اور تیل کی فراہمی میں معاونت کی۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم اپنے روپے کو مصنوعی طریقے سے مستحکم بنانے کی کوشش کریں گے تو اس کا نقصان ہو گا جیسا اسحٰق ڈار صاحب نے کیا۔ ہمیں اس غلط فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑی چنانچہ ڈالر کی قیمت بڑھی۔ آج مہنگائی مسلم لیگ نواز کا تحفہ ہے۔ بھاری قیمت پر بجلی کے معاہدے نون لیگ کا تحفہ ہیں۔ نون لیگ کی پالیسیوں کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ ان ڈھائی سالوں میں قرض کے حجم میں 25 ہزار ارب سے ساڑھے چھتیس ہزار ارب اضافہ ہوا جو تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار ارب بنتے ہیں۔ اس میں ساڑھے چھ ہزار ارب سابقہ حکومتوں کے لیے ہوئے قرضوں کی ادائیگیاں کی گئیں۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ1500 ارب امپورٹ اور کرونا کی وجہ سے ہمیں ریلیف دینا پڑا۔ اس ساڑھے گیارہ ہزار ارب میں سے گیارہ ہزار ارب سابق حکومتوں کی پالیسیوں کے حوالے سے بڑھے۔ ہماری گندم، چاول اور مکئی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ ہماری کاٹن کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ چاول کی پیداوار میں دس فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ گنے کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر معاشی اشاریے بہتری کی نوید سنا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں