کیا ہر احتجاج پر پورا ملک بند کر دیا جائے گا؟ سپریم کورٹ

05:56 AM, 25 May, 2022

احمد علی
سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس اعجاز الاحسن نے لانگ مارچ کے دوران راستوں کی بندش اور گرفتاریوں کیخلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا ہر احتجاج پر پورا ملک بند کر دیا جائے گا؟ عدالت عظمیٰ نے سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور ایڈووکیٹ جنرل کو آج 12 بجے طلب کر لیا۔ سپریم کورٹ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو بھی نوٹس جاری کر دیے۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، سکولز اور ٹرانسپورٹ بند ہے۔ معاشی لحاظ سے ملک نازک دوراہے اور دیوالیہ ہونے کے در پر ہے۔ کیا ہر احتجاج پر پورا ملک بند کر دیا جائے گا؟ تمام امتحانات ملتوی، سڑکیں اور کاروبار بند کر دیے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر حکومت کاروبار زندگی ہی بند کرنا چاہ رہی ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ مجھے تفصیلات کا علم نہیں، معلومات لینے کا وقت دیں۔ اس پر جسٹس مظاہر نقوی نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپکو ملکی حالات کا علم نہیں؟ سپریم کورٹ کا آدھا عملہ راستے بند ہونے کی وجہ سے پہنچ نہیں سکا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سکولز کی بندش کے حوالے سے شاید آپ میڈیا رپورٹس کا حوالہ دے رہے ہیں۔ میڈیا کی ہر رپورٹ درست نہیں ہوتی۔ اس پر جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ سکولز کی بندش اور امتحانات ملتوی ہونے کے سرکاری نوٹفکیشن جاری ہوئے ہیں۔ عدالت کے روبرو اپنے بیان میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ خونی مارچ کی دھمکی دی گئی ہے۔ بنیادی طور پر راستوں کی بندش کے خلاف ہوں۔ لیکن عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ راستوں کی بندش کو سیاق و سباق کے مطابق دیکھا جائے۔ معزز جج جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ماضی میں بھی احتجاج کیلئے جگہ مختص کی گئی تھی۔ میڈیا کے مطابق تحریک انصاف نے احتجاج کی اجازت کیلئے درخواست دی تھی۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں انتظامیہ سے معلوم کرتا ہوں کہ درخواست پر کیا فیصلہ ہوا۔
مزیدخبریں