نئی حکومت سازی میں صدر کا کردار ختم

نئی حکومت سازی میں صدر کا کردار ختم
سورس: ویب ڈیسک

  ویب ڈسک: آئین کا آرٹیکل 91 کابینہ کی تشکیل سے متعلق ہے اور یہی کابینہ پارلیمنٹ کی ایگزیکٹو برانچ کہلاتی ہے۔ کابینہ کی تشکیل ہی بنیادی طور پر حکومت کی تشکیل ہے۔

آرٹیکل 91 کی 1990 کے دہائی میں جو شکل تھی اس کے مطابق آرٹیکل 91 دو اے کے تحت صدر قومی اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد رکھنے والے کسی بھی رکن کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے تھے۔

آرٹیکل 91 تھری کے تحت صدر کی جانب سے جن رکن اسمبلی کو دعوت ملتی وہ وزیراعظم بن جاتا اور اسے 60 دن کے اندر اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا تھا۔

تاہم 2010 میں ہونے والی 18ویں ترمیم میں جہاں آئین میں دوسری بڑی تبدیلیاں آئیں وہیں آرٹیکل 91 میں بھی تبدیلی لائی گئی۔

آرٹیکل 91 کی موجودہ شکل کے تحت صدر مملکت الیکشن کے بعد اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے لیکن اگر صدر اجلاس نہیں بھی بلاتے تو الیکشن کے دن کے بعد 21ویں دن اسمبلی کا اجلاس ہوگا۔ یہ بات 91 کی شق نمبر 2 میں درج ہے۔

نئی اسمبلی سب سے پہلے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو منتخب کرے گی۔ (یاد رہے کہ اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت پرانے اسپیکر ہی کرتے ہیں)۔

آرٹیکل 91 کی ذیلی شق 2 کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد قومی اسمبلی اپنے ایک مسلم رکن کو وزیراعظم منتخب کرے گی۔

ذیلی شق 4 کے مطابق وزیراعظم کا انتخاب قومی اسمبلی کے اراکین کی اکثریت سے ہوگا۔

اسی شق میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کوئی رکن پہلی بار پولنگ میں اکثریت نہ لے پایا تو سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیداروں کے درمیان مقابلہ ہو گا اور جس نے زیادہ ووٹ لیے وہ وزیراعظم ہوگا۔

اگر دو امیدواروں کے ووٹ برابر ہوتے ہیں تو ان کے درمیان مزید پولنگ ہوگی۔

اسی آرٹیکل 91 کی ذیلی شق نمبر 5 مین درج ہے کہ وزیراعظم کے لیے ادوار پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

آرٹیکل 91 کی موجودہ شکل جہاں صدر مملکت کو کسی مخصوص جماعت کو حکومت سازی کی دعوت دینے سے روکتی ہے وہیں یہ آزاد اراکین کے حق میں بھی جاتی ہے۔ اگر کوئی آزاد رکن وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر سامنے آتا ہے تو اس پر کوئی پابندی نہیں۔ اسی طرح اگر وہ اکثریتی ووٹ لے لیتا ہے تو وزیراعظم بھی بن سکتا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کسی آزاد رکن کو اپنے پارٹی سربراہ کی ہدایت کے برخلاف ووٹ نہیں دے پائیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے اور پھر صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ایسا ووٹ شمار ہی نہیں ہوگا جب کہ رکن اسمبلی کو اپنی نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔