بےنظیر بھٹو نااہلی کیس،28 سال بعد سماعت،فون ٹیپ قانون مبہم ہے،سپریم کورٹ

بےنظیر بھٹو نااہلی کیس،28 سال بعد سماعت،فون ٹیپ قانون مبہم ہے،سپریم کورٹ
کیپشن: بےنظیر بھٹو کی نااہلی درخواست 28 سال بعد سماعت کیلئےمقرر

ویب ڈیسک: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے فون ٹیپنگ سے متعلق کیس میں ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی جب کہ دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ قانون ہر کسی کو ہر فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دیتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے 1997 میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی جانب سے ان کی (1993۔96 کی) حکومت کے خاتمے کو درست قرار دینے سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی درخواست کی 28 برس بعد سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون سازی ہوئی؟

اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2013 سے قانون موجود ہے، قانون کے مطابق آئی ایس آئی اور آئی بی نوٹیفائیڈ ہیں، قانون میں فون ٹیپنگ کا طریقہ کار موجود ہے، عدالتی نگرانی بھی قانون میں موجود ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق تو فون ٹیپنگ کے لیے صرف جج اجازت دے سکتا ہے، کیا کسی جج کو اس مقصد کے لیے نوٹیفائی کیا گیا ہے، قانون ہر کسی کو فون ٹیپنگ کی اجازت نہیں دیتا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ فون ٹیپنگ کا قانون مبہم ہے، فون ٹیپنگ کیس کا اثر بہت سے زیر التوا کیسز پر بھی ہوگا، یہ معاملہ چیف جسٹس کے چیمبر سے شروع ہوا، چیف جسٹس کہاں جائے گا؟

جسٹس امین الدین نے کہا کہ ہمیں رپورٹس یا قانون میں دلچسپی نہیں، ہمیں نتائج چاہئیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جج کی نامزدگی کے بارے میں مجھے علم نہیں، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے کہا کہ اس کیس میں درخواست گزار میجر شبیر سے رابطہ نہیں ہو رہا، میجر شبیر کے وکیل بھی گزشتہ سال انتقال کر گئے ہیں۔

عدالت نے کیس پر ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ 29 جنوری 1997 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے 7 رکنی بینچ نے فیصلے میں اس وقت کے صدر سردار فاروق خان لغاری کے ہاتھوں پانچ نومبر 1996 کو سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی بحیثیت چیف ایگزیکٹیو برطرفی اور وفاقی کابینہ اور قومی اسمبلی کی تحلیل کو درست قرار دیا تھا۔

مذکورہ بالا فیصلے کے فوراً بعد پٹیشنرز سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور یوسف رضا گیلانی نے ججمنٹ پر نظر ثانی کی درخواست (ریویو پٹیشن) دائر کی تھی، جو عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت مقدمات کی زیادتی (بیک لاگ) کے باعث 28 سال تک نہ سنی جا سکی۔

سابق صدر سردار فاروق خان لغاری نے اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت پردوسرے الزامات کے علاوہ ان (بی بی) کے حکم کے تحت ججوں، سیاسی رہنماؤں اور فوجی اور سول حکام کے ٹیلیفون کو انٹیلیجنس بیورو کے ذریعے غیر آئینی طریقے سے ٹیپ کرنے کا الزام لگایا تھا۔تاہم درخواست گزار نے الزامات کو رد کرتے ہوئے خود فون ٹیپنگ کا شکار ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

سپریم کورٹ بینچ کے 6 ججوں نے صدارتی حکم کو برقرار رکھا،جبکہ ایک رکن نے قومی اسمبلی، وزیر اعظم (درخواست گزار) اور ان کی کابینہ کی بحالی کی حمایت کی۔

سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 14 کے ذریعے ضمانت دی گئی رازداری کے حق کے تناظر میں ٹیلی فون ٹیپنگ اور چھپنے کے استعمال کی درستگی کا تعین کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کی ضمانت دیے گئے بنیادی حقوق کو شامل کرنے کے لیے آئین کو آزادانہ اور فائدہ مند انداز میں پڑھا جانا چاہیے اور آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت ’انسان کا وقار‘ اور ’گھر کی رازداری‘ ناقابلِ تسخیر ہے۔ 

سپریم کورٹ کے فیصلے میں لکھا گیا کہ ’آرٹیکل 14 کے تحت فرد کی رازداری صرف گھر یا جسمانی حدود تک محدود نہیں ہے بلکہ اسے عوامی مقامات تک بھی بڑھایا گیا ہے۔

’درخواست گزار کی حکومت کی طرف سے اختیار کردہ فون ٹیپ کرنے پر آرٹیکل 14 کی ضمانت دی گئی رازداری کے حق کی خلاف ورزی کی۔‘

فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ ’عدلیہ کی خودمختاری اہم ہے۔ اس لیے ججوں کی پرائیویسی کو یقینی بنانا ضروری تھا کیونکہ اس سے ان کی اپنے فرائض کی انجام دہی کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچے گا۔‘

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 9 کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’فون ٹیپ کرنے کی تکنیک نہ صرف رازداری کے حق زندگی اور آزادی کے حق کی بھی خلاف ورزی کرتی ہے اور ججوں کے فرائض کی موثر ادائیگی کے لیے رازداری ضروری ہے، جس میں نجی طور پر معاملات کی سماعت اور فیصلے کرنا شامل ہے۔‘ 

عدالت نے مزید لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 19، جو آزادی اظہار اور اظہار رائے کا تحفظ کرتا ہے، کے تحت بھی فون ٹیپ کرنا غلط ہے کیونکہ اس سے شہریوں کی آزادی کے ساتھ بغیر کسی پابندی کے اپنی بات کہنے اور اظہار خیال کرنے کی آزادی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ 

’اس طرح، رازداری کے حق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، آرٹیکل 19 کے ذریعہ بیان کردہ آزادی اظہار کے حق کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔‘

فون ٹیپ کرنے کی قانونی حیثیت کے حوالے سے عدالت نے کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ان تکنیکوں کو مجاز اور/ یا ریگولیٹ کرتا ہو۔ لہٰذا قانون کی عدم موجودگی میں اگر اس طرح کے کاموں کو انجام دینے کی ضرورت ہو تو عدالت سے یا اس کی طرف سے قائم کردہ کمیٹی سے اجازت لینا پڑے گی۔ عدالت نے ٹیلی فون ٹیپ کرنے اور چھپنے کے عمل کو غیر آئینی اور آئین کے تحت فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

Watch Live Public News