خیبر پختونخوا میں بڑی انتظامی تبدیلیاں، ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران عہدوں سے فارغ

 خیبر پختونخوا میں بڑی انتظامی تبدیلیاں، ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران عہدوں سے فارغ
کیپشن:  خیبر پختونخوا میں بڑی انتظامی تبدیلیاں، ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران عہدوں سے فارغ

ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد انتظامی تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبے کے بیوروکریسی اور پولیس محکموں میں اکھاڑ پچھاڑ کے بعد ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

صوبائی محکمہ قانون کے نوٹیفکیشن کے مطابق 26 ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز، 4 ایڈووکیٹس آن ریکارڈ اور 27 اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔

اس سے قبل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔

گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے صوبے کے انتظامی ڈھانچے میں بھی اہم تبدیلیاں کیں۔ چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ کو عہدے سے ہٹا کر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو نیا چیف سیکریٹری مقرر کیا گیا، جبکہ بیوروکریسی اور پولیس افسران کے تبادلے اور تعیناتیاں بھی کی گئیں۔

وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں پاک فوج کی تعیناتی کا حکم بھی جاری کیا ہے۔ فوج سول انتظامیہ کی معاونت اور شہریوں کی جان و مال سمیت سرکاری تنصیبات کے تحفظ کے لیے تعینات ہوگی۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی کے لحاظ سے حساس 12 اضلاع کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔

محمد یحییٰ اخونزادہ کو ان 12 حساس اضلاع کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایمرجنسی سے متعلق انتظامی امور کا نگران مقرر کیا گیا ہے۔

Watch Live Public News