افغانستان میں طالبان رجیم  مخالف مزاحمتی گروہوں کے پے در پے حملے، صورتحال کشیدہ

افغانستان میں طالبان رجیم  مخالف مزاحمتی گروہوں کے پے در پے حملے، صورتحال کشیدہ

(ویب ڈیسک)10 سے 18 اکتوبر کے درمیان 12 صوبوں میں 18 سے زائد بڑی کارروائیاں، طالبان رجیم کو بھاری نقصان ہوا۔مختلف حملوں میں کمانڈروں سمیت 38 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ  درجنوں زخمی، متعدد چوکیاں، گاڑیاں اور عسکری سامان تباہ کردیا۔

طالبان رجیم کے گڑھ ہلمند اور قندھار میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے پے در پے حملے جاری ہیں ۔اے یو ایف کے مطابق 11اکتوبر کو اے یو ایف کا غور میں طالبان رجیم کے اہلکاروں پر حملہ،حملے میں طالبان رجیم کا 1 اہلکار ہلاک جبکہ  1 زخمی ہوگیا۔

13 کتوبر کو اے یو ایف نے قندھار کے ضلع ارغنداب میں طالبان رجیم کے اہلکاروں پر حملہ کیا جس میں حملے میں طالبان رجیم کمانڈر رحیم اللہ روحانی اور 1 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔

اے یو ایف  کے مطابق 14 اکتوبر کو اے یو ایف کا قندھار کے ضلع اسپن بولدک میں طالبان رجیم کی 3 چوکیوں پر حملہ کیا گیا۔حملے میں طالبان رجیم کے 3 اہلکار ہلاک جبکہ  3 زخمی ہوئے  1 گاڑی تباہ بھی  ہوئی۔

14 اکتوبر کو اے یو ایف کا ہلمند میں طالبان رجیم کی چوکی پر حملہ،حملے میں طالبان رجیم کے 5 اہلکار ہلاک، اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا۔15اکتوبر کو اے یو ایف کا لشکرگاہ میں طالبان انٹیلی جنس اہلکار پر حملہ کیا۔اس حملے میں طالبان انٹیلی جنس کا 1 اہلکار ہلاک ہوا۔

اےیو ایف  کے مطابق 17 اکتوبر کو اے یو ایف کا لشکرگاہ میں طالبان رجیم کی کسٹم چوکی پر حملہ، طالبان رجیم کے 2 اہلکار زخمی ہوئے۔17 اکتوبر کو اے یو ایف کا ہلمند میں طالبان رجیم کے اہلکار پر حملے میں   طالبان رجیم کا 1 اہلکار ہلاک ہوا۔

اے یو ایف نے بیان میں کہا کہ طالبان رجیم کا زوال ناگزیر، افغانستان کی آزادی تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اے ایف ایف کے مطابق 13 اکتوبر کو اے ایف ایف نے لوگر میں پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب طالبان انٹیلی جنس اہلکاروں پر حملہ کیا،حملے میں طالبان انٹیلی جنس کے 3 اہلکار ہلاک جبکہ  2 زخمی ہوئے۔

9 اکتوبر کو این آر ایف نے بغلان میں طالبان رجیم کے اہلکاروں پر حملہ کیا۔حملے میں طالبان رجیم کا 1 اہلکار ہلاک جبکہ 1 زخمی ہوا۔10 اکتوبر کو این آر ایف نے پنجشیر کے میں طالبان رجیم کی چوکی پر حملہ کیا۔جس میں طالبان رجیم کا 1 اہلکار ہلاک جبکہ 1 زخمی ہوا۔

13 اکتوبر کو افغان گرین ٹرینڈ نے ہرات شہر میں طالبان پولیس کی چوکی پر حملہ کیا ،اس حملے میں طالبان رجیم کی چوکی تباہ کردی گئی۔15 اکتوبر کو افغان گرین ٹرینڈ نے پنجشیر میں طالبان رجیم کی رینجر گاڑی پر حملہ کیا۔

افغان گرین ٹرینڈ کے مطابق حملے میں رینجر گاڑی تباہ، سوار تمام طالبان اہلکار ہلاک ہوگئے۔

18 اکتوبر کو افغان گرین ٹرینڈ نے لشکرگاہ میں طالبان رجیم کے رینجر کمانڈر پر حملہ کیا۔حملے میں چوتھے سیکیورٹی ڈسٹرکٹ کا طالبان رینجر کمانڈر ہلاک ہوگیا۔

این آئی ایف کے مطابق 7 اکتوبر کو نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے ننگرہار میں طالبان رجیم کے ٹینک پر راکٹ حملہ،ٹینک مکمل تباہ، 3 طالبان اہلکار ہلاک کیے۔

11 اکتوبر کو نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے لشکرگاہ کے قریب ایئرفیلڈ میں عسکری سامان بردار طالبان گاڑیوں پر راکٹ حملہ کیا، جس میں 2 گاڑیاں اور عسکری سامان تباہ، 8 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

13 اکتوبر کو نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے فراہ شہر میں طالبان انٹیلی جنس کے نائب سربراہ مولوی امرالدین خالد کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔حملے میں مولوی خالد کا معاون 2 محافظوں سمیت ہلاک، تمام اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا۔ 

این آئی ایف کے مطابق 15 اکتوبر کو نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کا وردگ میں طالبان رینجر گاڑی پر حملہ کیا گیا جس میں رینجر گاڑی مکمل تباہ، 4 طالبان اہلکار ہلاک ہوگئے۔17 اکتوبر کو نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ  نے بادغیس کے طالبان گورنر ملا محمد آخوند کے مہمان خانے پر راکٹ حملہ کیا،اس حملے میں گورنر کے 2 محافظ ہلاک جبکہ  4 شدید زخمی ہوئے۔

18 اکتوبر کو نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے قندھار کے ضلع اسپن بولدک میں اہم طالبان کمانڈر ملا داؤد ندیم پر حملہ کیا۔

14 اکتوبر کو افغان ریپبلک فرنٹ نے بامیان میں طالبان رجیم کے جست کان کے ذخیرے پر راکٹ حملہ کیا۔

اے آر ایف کے مطابق حملے میں متعدد راکٹ ہدف پر لگے، طالبان رجیم کو بھاری جانی نقصان ہوا۔

Watch Live Public News