دہلی کے نئے شاہی امام کی تاجپوشی،سید شعبان بخاری بنے 14 ویں شاہی امام

دہلی کے نئے شاہی امام کی تاجپوشی،سید شعبان بخاری بنے 14 ویں شاہی امام
کیپشن: Jama Masjid Shahi Imam Dastar Bandi
سورس: ویب ڈیسک

 ویب ڈیسک  :دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے نئے شاہی امام سید شعبان بخاری کی شبِ برأت کے موقع پر تاجپوشی  کردی گئی ۔ اس مسجد کے احاطے میں منعقدہ  باوقارتقریب میں بھارت سمیت دنیا بھر سے اہم شخصیات  نے شرکت کی۔ سید شعبان بخاری اب جامع مسجد کے 14 ویں شاہی امام ہوں گے۔ 

تفصیلات کے مطابق سید شعبان بخاری جامع مسجد کے موجودہ (اب سابق) شاہی امام سید احمد بخاری کے فرزند ہیں۔شاہی امام کے عہدے پر فائز ہونے سے قبل سید شعبان بخاری نائب شاہی امام کے فرائض ادا کر رہے تھے۔ان کو شاہی امام کے عہدے پر فائز کرنے سے متعلق ان کے والد سید احمد بخاری نے پہلے سے اعلان کردیا تھا اور اس کے لیے 25 فروری (شبِ برأت) کا دن مقرر کیا گیا تھا۔ تاجپوشی کے لیے منعقدہ اجتماع میں اپنے بیٹے کو شاہی امام کا عہدہ سونپتے اور اپنا جانشین مقرر کرتے ہوئے سید احمد بخاری نے کہا کہ جامع مسجد دہلی کی روایت رہی ہے کہ امام وقت اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے کو اپنا جانشین مقرر کر دیتا ہے۔

سید احمد بخاری نے مزید کہا کہ ’’میں منصبِ امامت کی تقریباً پونے 4 سو سالہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے علما و مفتیانِ کرام، مشائخ، مصلیان و عمائدین شہر کی موجودگی میں اپنے فرزند سید شعبان بخاری کو اپنا جانشین مقرر کر رہا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ عز و جل سید شعبان بخاری کو خاندانی روایت کا محافظ بنائے۔‘‘ نئے شاہی امام کی تقریب تاجپوشی میں ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کے ذمہ داران، تمام مکاتب فکر کے علما کرام، مفتیان ومشائخ عظام شریک ہوئے۔

دہلی کی جامع مسجد کی طرح اس کے منصب امامت کو بھی تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہنشاہ شاہ جہاں نے اس مسجد کی تعمیر کے بعد بخارا (اب ازبکستان) کے بادشاہ سے کسی عالم دین کو امامت کے غرض سے بھیجنے کے لیے کہا۔ بخارا کے بادشاہ نے سید عبدالغفور شاہ بخاری کو دہلی بھیجا، 24 مئی 1656 کو انہیں جامع مسجد کی امامت کے منصب پر فائز کیا گیا۔ اس کے بعد شاہجہاں نے انہیں شاہی امام کا خطاب دیا جو آج تک مستعمل ہے۔ اس کے بعد سے جامع مسجد کی امامت کا منصب اسی بخاری خاندان میں ہے۔ موجودہ شاہی امام کے خاندان میں یہ منصب گزشتہ تقریبا پونے چار  سو سالوں سے ہے۔