100 روپے کے نوٹ میں بڑی غلطیاں سامنے آگئیں

100 روپے کے نوٹ میں بڑی غلطیاں سامنے آگئیں
100 روپے کے کرنسی نوٹ میں بڑی غلطیاں سامنے آ گئی ہیں۔ ان بنیادی غلطیوں کی نشاندہی کرنے والے کراچی کے شہری کی کاوش کو بہت سراہا جا رہا ہے۔ ان خامیوں کو دور کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے۔ ان دو بڑی غلطیوں کی نشاندہی کرنے والے شہری کا نام محمد حسین ہے۔ وہ سرکاری ملازم تھے۔ تاہم اب وہ کراچی میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ گذشتہ 10 سالوں سے وہ اس غلطی کو درست کرانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کہیں سے شنوائی نہیں ہو رہی تھی۔ بالاخر میں نے وفاقی محتسب کو درخواست دی تو صرف دو ماہ میں ہی یہ تاریخی فیصلہ آگیا۔ تفصیل کے مطابق وفاقی محتسب نے 100 روپے کے کرنسی نوٹ پر پائی جانے والی غلطیوں کو درست کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ یہ حکم کراچی کے بزرگ شہری محمد حسین کی درخواست پر دیا گیا ہے۔ محمد حسین نے اردو نیوز سے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ اتفاق سے میں نے 100 روپے کے کرنسی نوٹ کے دونوں اطراف دیکھا کہ اس پر کون کون سی یادگاری تصویریں بنی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 100 روپے کے کرنسی نوٹ پر میں نے دو بنیادی غلطیاں دیکھیں تو اسے حکام کے نوٹس میں لانے کا فیصلہ کیا۔ دراصل 100 روپے کے نوٹ پر زیارت کوئٹہ لکھا ہوا ہے لیکن زیارت ایک مختلف ضلع ہے اور کوئٹہ مختلف ہے۔ اس کو زیارت بلوچستان ہونا چاہیے تھا۔ بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ اسی طرح بابائے قوم کے ہجے بھی غلط ہیں۔ یہ کوئی چھوٹی غلطی نہیں بلکہ بہت بڑا بلنڈر ہے۔ کراچی کے بزرگ شہری محمد حسین کی نشاندہی پر وفاقی محتسب نے فوری ایکشن لیا اور سٹیٹ بینک اور اس سے منسلک محکموں کو احکامات جاری کئے کہ ان غلطیوں کو دور کیا جائے۔ وفاقی محتسب کی جانب سے جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ آئندہ 100 روپے کے کرنسی نوٹ پر قائداعظم کے صحیح ہجے لکھے جائیں جو کہ انگریزی کے حرف ''آئی'' سے بنتے ہیں۔ قائداعظم کے ''ای'' سے لکھے جانے والے ہجے غلط ہیں۔ اسی طرح یہ بھی احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں کہ 100 روپے کے نوٹ پر زیارت کوئٹہ کی بجائے زیارت بلوچستان لکھا جائے۔ بشکریہ ارد و نیوز
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔