(ویب ڈیسک) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہوگا، سہیل آفریدی کی کوشش ہے صوبے میں گورنر راج لگے۔
بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا وفاقی حکومت کے ساتھ معاہدہ ہوچکا تھا،ایسے میں وزیراعلیٰ نے مثبت کے بجائے منفی راستہ اختیار کیا،ایک ہفتہ پہلے وفاقی حکومت کہہ رہی تھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا ماحول تیار ہے،پیپلز پارٹی کا واضح پیغام تھا گورنر راج آئینی معاملہ ہے لیکن آخری میں استعمال ہوگا۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کردار وفاقی سیاست میں نہیں رہا، ایسا ہی رہا تو صوبائی سیاست میں بھی کردار نہیں ہوگا،خیبر پختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہوگا، گورنر راج قانونی اور آئینی آپشن ہے،خیبر پختونخوا میں ایک جماعت ہے جو نفرت کی سیاست کررہی ہے،ایک صوبے کو وزیراعلیٰ منفی سیاست کےر استے پر چل رہا ہے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی وجہ سےصوبے میں ایمرجنسی کے حالات بن رہے ہیں،سہیل آفریدی کی کوشش ہے صوبے میں گورنر راج لگے۔
انہوں نے کہا کہ خوشی ہے وفاقی حکومت الیکٹورل ریفارمز کمیٹی سے متعلق مان چکی ہے، پی ٹی آئی الیکٹورل ریفارمز کمیٹی میں نہیں بیٹھے گی تو آئندہ انتخابات میں دھاندلی کیسے روکے گی۔
بلاول بھٹو نے مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی اپنا کھویا مقام واپس چاہتی ہے تو انتہا پسندی والی سیاست چھوڑنا ہوگی،جو آج جیل میں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں وہ آئندہ بھی جیل میں ہی ہوگا۔پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو مثبت سیاست کرنا چاہتی ہے،حکومت پی ٹی آئی مذاکرات میں مولانا فضل الرحمان کے کردار کا خیر مقدم کرتا ہوں، پی ٹی آئی سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کرے، پی ٹی آئی پارلیمان میں آئے تو ان کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے صوبہ بنانے کے مطالبے کے ساتھ ہیں،جہاں عوام کی رائے اور مینڈیٹ ہے وہاں کل نہیں آج صوبہ بنائیں،جو نہیں چاہتے وہاں صوبے بنانے کے کیلئے زبردستی کیوں کی جائے۔