ویب ڈیسک: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "عوام کے منتخب نمائندے پہلے ہیں، اور عہدیدار بعد میں۔"
تفصیلات کے مطابق، قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اس وقت اہم پیش رفت سامنے آئی جب ایاز صادق نے آئینی استثنیٰ کے حوالے سے تجویز کی سخت مخالفت کی۔ ذرائع کے مطابق، کمیٹی اجلاس میں صدر مملکت، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو آئینی استثنیٰ دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی، جسے ایاز صادق نے مسترد کر دیا۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی قسم کا استثنیٰ نہیں چاہتے کیونکہ "عوام کے منتخب نمائندے پہلے ہیں اور عہدیدار بعد میں۔" اسپیکر نے کمیٹی کے چیئرمین محمود بشیر ورک کو بھی اس تجویز کو آگے بڑھانے سے منع کیا۔
یہ پیشرفت وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم میں وزیر اعظم کے استثنیٰ سے متعلق تجویز واپس لینے کی ہدایت کے بعد ہوئی۔ وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہیں آذربائیجان سے واپسی پر اس شق کے بارے میں علم ہوا، جو وفاقی کابینہ کے منظور شدہ آئینی مسودے کا حصہ نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا، "معزز سینیٹرز کا شکریہ، لیکن میں نے فوراً اس ترمیم کو واپس لینے کی ہدایت دی ہے کیونکہ منتخب وزیر اعظم قانون اور عوام کی عدالت میں جواب دہ ہے۔"