(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی ہم سے چھپ کر ملتے تھے، تصویر بھی لینے سے گھبراتے تھے۔سہیل آفریدی سے ملاقاتوں میں صرف دہشتگردی پر بات ہوئی، کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آج کا دن آسان دن نہیں تھا بلکہ 1 ماہ سے زائد کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طریقے کے پی حکومت کو آن بورڈ لیں ,ذاتی طور پر صوبائی حکومت کیساتھ بیک ڈور رابطوں میں تھا ,دہشت گردی کی لڑائی کو مل کر لڑا جاسکے یہی کاوش تھی ,ان کے لانگ مارچ سے پہلے ملاقاتیں، علاج سب کچھ پہلے سے ہی ہورہا تھا ,ان کے اپنے لوگوں کو بھی حیرانی تھی کہ لانگ مارچ کا کیون اعلان کیا گیا .
انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر کو وزیراعظم نے نیویارک کیلئے نکلنا تھا اور 15 یا 16 اپوزیشن لیڈرز سے ملنا تھا ،13 اور 14 ستمبر تک کوئی کنفرمیشن اپوزیشن نے نہیں دی،اس کے بعد پھر مسلسل رابطہ رہا اور اس کے بعد پھر صدر مملکت سے ملاقات میں کمیٹی بنی ،پہلے دن جو ملاقات ہوئی اس میں واضح کیا گیا دہشت گردی کے خلاف متفق ہیں ،یہ خود اسد قیصر نے کہا، میں نے ان سے کہا کہ کے پی حکومت کو آن بورڈ لیں ،اپوزیشن کے مطالبے پر اجلاس کو اگلے دن تک ملتوی کیا گیا اور پھر اگلے روز چار بار ڈرافٹ تبدیل کیا گیا ،چوتھی بار ان کے مطالبے پر ڈرافٹ تبدیل کیا مگر پھر ایک کیا ڈرافٹ آگیا ۔
محسن نقوی نے کہا کہ کل رات پونے 12 بجے تک ان کیساتھ رابطے میں رہا، اس وقت بھی کہا کہ آپ بتائیں کونسی تبدیلی کرنی ہے ،انہوں نے ایک پیرا گراف میں تبدیلی کرانی تھی مگر ہم انتظار کرتے رہے کوئی جواب نہ آیا ،رات پھر ان سے بات کی کہ آپ جواب دیں تو ہم اس معاملے کا کوئی حل نکالیں گے اور تھوڑی اور تاخیر کرینگے ،مگر افسوس انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، مولانا فضل الرحمان نے بھی کاوش کی ،وزیراعظم میاں شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان ملاقاتوں کے علاوہ رابطہ رہا ،بارہا کہا کہ آپ کے دھرنے لانگ مارچ سے کوئی ایشو نہیں آجائیں مگر دہشت گردی کے حوالے سے جواب دیں ۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا موقف تھا کوئی لانگ مارچ نہیں آنا چاہیئے ،جتنے رابطے اپوزیشن کیساتھ ہوئے وہ سب ہم نے خود کئے انہوں نے رابطے نہیں کئے،ان کیساتھ کیا طے نہیں پایا کہ پانچ اضلاع میں پولیس کو بااختیار کریں اور فوج اور ایف سی کو وہان سے واپس بلائیں،پھر اگلے چھ ماہ میں دیگر پانچ اضلاع میں یہ اقدام اٹھائیں ،12 اضلاع میں ایمرجنسی کے حوالے سے خود کے پی حکومت نے اتفاق رائے کیا تھا،مگر افسوس بیک ڈور رابطوں کے باوجود ہمارے ساتھ کے پی حکومت کھڑی نہیں ہوئی ،ایسا نہیں ہوسکتا کہ وفاق کی خارجہ پالیسی اور ہو اور صوبے کی الگ ،طالبان کیساتھ ان کے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ،یہاں سے 5 لوگ نہیں جاسکتے اور وہ ان علاقوں سے جلوس نکال رہے ہیں تو کیسے ؟؟،حقیقت میں یہ صورتحال ہے کہ وہاں حالات درست نہیں۔
آئین 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے ،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے گورنر نے ایک خط کے ذریعے تشویشناک صورتحال بارے آگاہ کیا ،گزشتہ اڑھائی سال میں 196 فیصد دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ،شہادتیں، زخمی، تنصیبات اور گاڑیوں کی تباہی کی تفصیلات الگ ہیں ،افواج پاکستان، کے پی پولیس، دینی رہنماؤں اور عام افراد ان دہشت گردوں کا نشانہ بنے ۔
انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ،اگر کسی بیرونی حملے کا خطرہ ہو یا اندرونی مسئلہ ہو تو 232 کا اختیار استعمال ہوتا ہے ،خیبرپختونخوا میں یہ دونوں خطرات بڑھ چکے تھے ،آئین 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے ،دونوں ریکوائرمنٹس ایسی تھیں ان کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سڈنی نے ایک رپورٹ جاری کی کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے ،ایک گیارہ رکنی کونسل بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ وہ بہتر کام کرسکے ،بارہ دیگر اضلاع کیلئے ایک سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے جو براہ وفاق کو جوابدہ ہوگا ،آرٹیکل 245 کے تحت صوبائی حکومت کو افواج پاکستان کو متعین کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ،دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پہلے ہی افواج پاکستان وہاں متعین ہے ،آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 قومی اسمبلی، سینیٹ سے منظوری لی جائیگی پھر مشترکہ اجلاس بھی بلایا جائیگا۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا دہشتگردوں سے مکروہ اتحاد تھا ، وزیر اطلاعات عطاء تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا دہشتگردوں سے مکروہ اتحاد تھا ،ان کا سیکیور ایکسس اسی وجہ سے انہیں حاصل تھا ،کیا وجہ ہے کہ آپ نے تھانے تک طالبان کو سبلٹ کر دیئے،خود دہشت گردی سے متاثرہ لوگ صوبائی حکومت سے تنگ تھے ،کیونکہ پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو شراکت دار بنا لیا تھا ،جو بھتہ نہ دے اس کو شہید کردو، انہوں نے دہشت گردوں کے حوالے اضلاع کردیئے ،یہ دہشت گردوں کو پولیس فورس میں بھی شامل کرانا چاہتے تھے اس کے ناقابل تردید ثبوت تھے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر کے نیچے ایڈوائزری کونسل بنا دیا گیا ،طارق محمود پاشا صوبے میں خزانہ کے معاملات دیکھیں گے ،عامر جاوید قانونی معاملات دیکھیں گے ،عامر عبداللہ ایجوکیشن کے معاملات دیکھیں گے ،نگار جوہر صحت کے شعبے میں فرائض انجام دیں گی ،ڈاکٹر سرفراز علی شاہ مائنز اینڈ منرلز کے معاملات دیکھیں گے ،ڈاکٹر ارشاد انڈسٹریز اینڈ کامرس کے معاملات دیکھیں گے ،آصف رفیق کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے شعبے کے ذمہ دار ہوں گے ،مولانا طیب قریشی مذہبی معاملات دیکھیں گے ،ثمر ہارون بلور اطلاعات و نشریات کے معاملات دیکھیں گے اورعثمان سیف اللہ توانائی کے معاملات کے ذمہ دار ہوں گے۔