آذربائیجان اور آرمینیا میں دوبارہ کشیدگی، فوجیوں کی ہلاکتیں

آذربائیجان اور آرمینیا میں دوبارہ کشیدگی، فوجیوں کی ہلاکتیں
باکو: (ویب ڈیسک) آرمینیا اور آذربائیجان میں دوبارہ کشیدگی کے بعد سرحدی جھڑپیں ہو ئی ہیں۔ آرمینیا کے فوجی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ تازوہ جھڑپوں میں ان کے کئی فوج ہلاک جبکہ متعدد کو آذربائیجان حکام نے حراست میں لے لیا ہے۔ ذہن میں رہے کہ آرمینیا مسیحی اکثریت والا ملک ہے جبکہ آذربائیجان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ ترکی کے آذربائیجان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں جبکہ روس کا آرمینیا کے ساتھ اتحاد ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آذربائیجان کی فوج نے آرمینیا کیخلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اس کے قبضے سے دو جنگی مورچوں کو بھی چھین لیا ہے۔ ادھر آذری حکام نے کہا ہے کہ حالیہ واقعات میں ان کے دو فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم روسی ثالثی پر دونوں ممالک جنگ بندی پر راضی ہو چکے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ گذشتہ سال ناگورنو قرہباخ کے متنازع علاقے پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ میں 6 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ آذری فوج نے اس علاقے کے بڑے حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا جسے بین الاقوامی طور پر آرمینیا کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ خبریں ہیں کہ آرمینیا نے حالیہ جھڑپوں کے بعد روس سے مدد طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آذربائیجان کیخلاف اس کی علاقائی خود مختاری کا دفاع کرے کیونکہ ہم اس کے اہم سکیورٹی اتحادی ہیں۔ بعد ازاں آرمینیا اور روس کے وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ تاہم آذربائیجان نے اس معاملے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ آرمینیا نے فوری طور پر ہلاکتوں کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی لیکن پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ ایڈورڈ آغاجانیان نے کہا کہ ممکنہ طور پر تازہ جھڑپ میں 15 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ آذربائیجان کی وزارت دفاع نے آرمینیا پر ’ریاستی سرحد پر کالبجر اور لاچین کے علاقوں میں آذربائیجان کے خلاف بڑے پیمانے پر اشتعال انگیزی‘ کا الزام لگایا ہے۔ یہ تازہ ترین کشیدگی آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدے کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ایک راہداری ہے۔ سیاسی طور پر یہ آذربائیجان کے رہنما الہام علییف کیلئے اہم ہے، انھوں نے عہد کیا تھا کہ وہ آرمینیا کو راہداری کے حوالے سے چھوٹ دینے پر مجبور کریں گے۔ گذشتہ سال نومبر میں ہی روس کی ثالثی میں ایک امن معاہدہ طے پایا تھا اور تقریباً 2,000 روسی امن دستے ناگورنو قرہباخ اور اس کے آس پاس کے علاقے میں گشت کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔ سوویت یونین کے دم توڑتے آخری سالوں میں آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان بنیادی طور پر نسلی-آرمینیائی ناگورنو-قرہباخ کے علاقے پر ایک خونی تنازعے شروع ہو گيا تھا۔