خواجہ طارق رحیم کی کیا پوزیشن ہے جو میں اُن کا جواب دوں، خواجہ آصف

خواجہ طارق رحیم کی کیا پوزیشن ہے جو میں اُن کا جواب دوں، خواجہ آصف
اسلام آباد : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خواجہ طارق رحیم کی کیا پوزیشن ہے جو میں اُن کا جواب دوں، آڈیو کی فرانزک اس کی تصدیق کے لئے ضروری ہے. وزیر دفاع خواجہ آصف نے پبلک نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )عمران خان پر مقدمات چلتے ہیں نہ اس کی گرفتاری ہوتی ہے، عمران خان کے خلاف درج مقدمات میں ان کی پسند کے مطابق تاریخیں دی جاتی ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کوسزائیں دی گئیں، یہاں 2017سے آئین وقانون کی کئی خلاف ورزیاں کی گئیں، 2018کے الیکشن میں عوامی مینڈیٹ کی خلاف ورزی کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا خواجہ طارق رحیم کی ایسی کوئی پوزیشن نہیں کہ ان کی بات کا جواب دوں، عدالت نے ازخود نوٹس لیناہے تو لے لے۔ خٰیال رہے کہ اس سے قبل معروف قانون دان اور سابق گورنر خواجہ طارق نے اپنی اہلیہ اور چیف جسٹس کی خوش دامن کی آڈیو کی تصدیق کر دی ہتھی۔ خواجہ طارق نے پبلک نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاتھا کہ اظہر نون صاحب سے ہمارے تعلقات آج کے نہیں 70 سال سے ہیں، اگر میری بیوی نے عمر بندیال کو کوئی دعا دی ہے اور یہ دعا دی کہ اللہ آپ کو خوش رکھے آپ آئین اور قانون کے ساتھ چلیں، سمجھ نہیں آ رہی کہ رانا صاحب اور طلال صاحب کو پرابلم کیا ہے؟، کیا رافعہ طارق نے یہ کہا کہ کیس ڈیسائیڈ کر دیا جائے، کیا میرا کوئی ایسا کیس تھا عمر بندیال کے ساتھ جس میں رافعہ طارق نے کہا ہو کیس میرے حق میں کر دیا جائے۔ خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ ان کو پرابلم یہ پڑی ہے کہ یہ الیکشن سے بھاگنا چاہتے ہیں، یہ کیئر ٹیکر گورنمنٹ آرٹیکل 2 اے کے تحت بھی نہیں چل سکتی۔انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں فرانزک کرانی ہے آپ کرا لیں، پہلے یہ بتائیں کس قانون کے تحت آپ ہمارے فون، میری بیگم کے فون یا ماہ جبین ن کے فون آپ ٹیپ کر رہے ہیں؟۔ سابق گورنر کا کہنا تھا کہ ایک ایسی آڈیو لیک جو دو بزرگ خواتین کے درمیان ہیں اس کو بہانہ بنانا چاہتے ہیں، اس آڈیو لیک میں کیا کہا گیا کیا کوئی سفارش کی گئی؟، کیا ان خواتین نے پاکستان کے آئین کے خلاف بات کی ہے؟، رانا صاحب میں ہمت ہے یا تارڑ صاحب میں ہمت ہے، لے چلتے ہیں کسی عدالت میں فیصلہ وہاں ہو جائے گا۔ خواجہ طارق نے مزید کہا کہ وارن کرنا چاہتا ہوں، پنجاب کا لفظ ہے پنگا لینا، آپ میرے ساتھ یہ لے رہے ہیں، میں جواب دوں گا تو سخت ہو جائے گا، میں نے ان کے پول کھولنے شروع کیے، تو ان کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔