انڈیا سے آنیوالی خاتون کا قبول اسلام، پاکستان میں شادی کرلی

انڈیا سے آنیوالی خاتون کا قبول اسلام، پاکستان میں شادی کرلی
لاہور: (ویب ڈیسک) بابا گرونانک کی جنم دن تقریبات میں شرکت کیلئے بھارت سے آنے والی سکھ خاتون پرمجیت کور نے اسلام قبول کرکے لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک شہری محمد عمران سے شادی کر لی ہے۔ خبریں ہیں کہ یہ جوڑا سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ سکھ مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرنے والی اس خاتون کا نام پروین سلطانہ رکھا گیا ہے۔ اس کا لاہور کے شہری محمد عمران کیساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا تھا، جو اس کے سابق شوہر کے علم میں تھا۔ پروین سلطانہ نے پاکستان پہنچ کر جسٹس آف پیس آفس میں درخواست دائر کی اور اپنے سکھ شوہر کی موجودگی میں مسلمان شخص محمد عمران سے نکاح کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل سکھ شوہر نے اپنی اہلیہ کو عدالت میں جا کر طلاق دی تھی۔ اس خاتون نے اپنے مسلمان شوہر کیساتھ واپس جانا چاہا تاہم ویزا نہ ہونے کے باعث محمد عمران کو اس کی اجازت نہیں دی جا سکی۔ بعد ازاں پروین سلطانہ رواں ماہ 26 نومبر کو اپنے سابقہ شوہر کے ہمراہ ہندوستان واپس چلی گئیں۔ ادھر خبریں ہیں کہ اس خاتون کو اسلام قبول کرکے شادی کرنا مہنگا پڑ گیا ہے۔ بھارت واپسی پر اس کیخلاف تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ بھارتی شرومنی اکالی دل دہلی کے صدر پرمجیت سنگھ سرنا نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامورکو خط لکھ کر خاتون کو آئندہ ویزا جاری نہ کرنے اور مستقل طور پر بلیک لسٹ کرنے کی درخواست کی ہے۔ پاکستانی ناظم الامور آفتاب حسن خان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ وہ انڈیا کی سکھ برادری کی جانب سے سکھ یاتری کو پاکستان سے بھارت واپس بھیجنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پرمجیت کور نے اپنے یاتری ویزا کا غلط استعمال کرکے مذہب تبدیل کیا اور وہاں دوبارہ شادی کی۔ اس عمل نے سکھ یاتریوں پر گہرا اثر منفی اثر ڈالا ہے۔