روسی بلیوں پر پابندی لگ گئی

روسی بلیوں پر پابندی لگ گئی

یوکرین پر حملے کے بعد روسی بلیوں پر بین الاقوامی مقابلوں کیلئے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بلیوں کی رجسٹریشن کے لیے قائم عالمی تنظیم فیڈریشن انٹرنیشنل فیلین FIFE (Fédération Internationale Féline) نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ روس سے باہر کسی بھی روسی نسل کی بلی کو درآمد اور رجسٹر نہیں کیا جائے گا.

تفصیلات کے مطابق بلیوں کے شوقین افراد کیلئے قائم فیڈریشن انٹرنیشنل فیلین نے یوکرین میں ماسکو کے فوجی آپریشن کے جواب میں روسی نسل کی بلیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ این جی او، ایف آئی ایف ای ایگزیکٹیو بورڈ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ روس کی فوج نے جمہوریہ یوکرین پر حملہ کیا اور جنگ شروع کر دی۔

ایف آئی ایف ای نے ایک بیان میں کہا بہت سے بے گناہ لوگ مارے گئے، بہت سے زخمی ہوئے اور لاکھوں یوکرینی اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گھروں محصور ہوئے. ہم سب جارحیت کی وجہ سے ہونے والی تباہی اور افراتفری کا مشاہدہ کر سکتے ہیں.

ایف آئی ایف ای نے کہا روسی مظالم پر خاموش نہیں رہا جاسکتا ، اس لیےیہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یکم مارچ سے روسی نسل کی کوئی بھی بلی درآمد نہیں کی جا سکے گی جبکہ بلیاں روس سے باہر کسی بھی ایف آئی ایف ای پیڈیگری بک میں رجسٹر نہیں ہو سکیں گی. بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روس میں رہنے والے نمائش کنندگان کی کسی بھی بلی کو روس سے باہر کسی بھی شو کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، قطع نظر اس کے کہ یہ نمائش کنندگان اپنی رکنیت کس تنظیم میں رکھتے ہیں۔ یہ پابندیاں 31 مئی تک لاگو رہیں گی، اور جب ضرورت پڑی تو ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایف آئی ایف کے بورڈ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بجٹ کا ایک حصہ یوکرین میں بلیوں کے پالنے والوں اور شائقین کی مدد کے لیے وقف کرے گا جو موجودہ صورتحال کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک نے یوکرین میں روس کی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان ممالک نے یوکرین کو روس سے لڑنے کے لیے فوجی امداد دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

خاص طور پر، امریکہ، کینیڈا اور یورپی اتحادیوں نے اہم روسی بینکوں کو انٹربینک میسجنگ سسٹم، SWIFT سے ہٹانے پر اتفاق کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ روسی بینک روس کی سرحدوں سے باہر کے بینکوں کے ساتھ محفوظ طریقے سے رقم کی منتقلی نہیں کر سکیں گے۔

ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔