عوام انتقامی کارروائیوں کیخلاف احتجاج کیلئے نکلیں، عمران خان

عوام انتقامی کارروائیوں کیخلاف احتجاج کیلئے نکلیں، عمران خان
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ وہ تمام لوگ جو جمہوریت اور آزادی اظہار کےآئینی حق کےحامی ہیں وہ خوف وہراس پھیلانے اور تنقیدی آوازوں کا گلا گھونٹنے کیلئےعمران ریاض خان کی گرفتاری اور ایاز امیر سمیت صحافیوں اور دیگر کیخلاف جاری پرُ تشدد و انتقامی کارروائیوں پر صدائے احتجاج بلند کرنے کیلئے باہر نکلیں۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ہم سب متحد ہوکر اس فسطائیت کیخلاف کھڑے نہیں ہوتے پاکستان میں آزادی و جمہوریت کا سورج مکمل طور پر غروب ہو جائے گا۔ اس سے قبل اپنی ٹویٹ میں عمران خان نے موجودہ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ قوم امپورٹڈ حکومت، جسے تبدیلی حکومت کی امریکی سازش کے ذریعے اس وقت مسلط کیا گیا جب میری حکومت معیشت مستحکم کر چکی تھی، کی معاشی قیمت کے بوجھ تلے کچلی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات، جو ن لیگ کے پچھلے دورِ حکومت میں 25 ارب ڈالر پر کھڑی تھیں پہلی مرتبہ 30 ارب ڈالر کی سطح عبور کرتے ہوئے رواں برس 31 اعشاریہ 76 ارب ہو گئیں۔ عمران ریاض خان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے آفیشل ٹویٹر اکائونٹ سے بھی کہا گیا ہے کہ ایک اور دن ایک اور شرمناک حرکت! معروف صحافی عمران ریاض خان کو پنجاب پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے خلاف الزام؟ وہ پاکستان میں ظلم اور فسطائیت کے خلاف بول رہے تھے۔ پنجاب حکومت نے صحافی عمران ریاض خان کی گرفتاری بارے موقف دیتے ہوئے کہا ہے ان کیخلاف صوبے میں مختلف مقدمات درج ہیں، ان کے تحت ہی ان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون ملک احمد خان نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ عمران ریاض خان کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا، بلکہ ان کی گرفتاری پنجاب کی حدود سے کی گئی کیونکہ اسی صوبے میں ان کیخلاف مقدمات درج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران ریاض خان کیخلاف صوبہ پنجاب کے شہر اٹک میں ایک ایف آئی آر درج ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ رات پی ٹی آئی کی سپورٹ کرنے والے اینکر عمران ریاض خان کو اٹک ٹول پلازہ سے گرفتار کرکے پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا تھا۔ عمران ریاض خان کی گرفتاری پر ان کے ساتھی صحافیوں اور پی ٹی آئی کی قیادت نے شدید مذمت کی ہے۔ تحریک انصاف نے اس گرفتاری کیخلاف ملک گیر احتجاج کی کال دیدی ہے۔

Watch Live Public News

ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔