حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے دو ٹوک فیصلہ

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے دو ٹوک فیصلہ
کیپشن: Petroleum products
سورس: web desk

(ویب ڈیسک)آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر لیوی 60 روپے سے بڑھا کر 80 روپے کر دی گئی،پٹرول اور ڈیزل پر لیوی 80 روپے فی لیٹر ہوگی ۔

تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال ہائی آکٹین پر 75 روپے فی لیٹر لیوی ہوگی ،آئندہ سال بجٹ میں مٹی کے تیل پر لیوی 50 روپے فی لیٹر عائد  ہوگی،آئندہ سال کے بجٹ میں ایل پی جی پر 30 ہزار روپے ٹن لیوی عائد کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ آئندہ سال کے فائنانس بل میں برآمدات کے لیے نارمل ٹیکس کا نظام عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، غیر منقولہ جائیداد پر کیپیٹل گین ٹیکس 15 فیصد ،نان فائلرز کے لیے کیپیٹل گین ٹیکس 45 فیصد،سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے لیے بھی کیپیٹل گین ٹیکس 15 فیصد،نان فائلر سرمایہ کاروں کے لیے بھی کیپیٹل گین ٹیکس 45 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

فلیٹ خریدنے والے نان فائلرز پر بھی ٹیکس بڑھانے کی تجویز زیرغور ہے، ریٹیلرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایڈوانس ودہولڈنگ کی ایک فیصد سے بڑھا کر 2.25 کرنے، گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس کی وصولی قیمت کی بنیاد پر وصول کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

بجٹ میں آئندہ مالی سال زیرو ریٹنگ ختم کرنے اور ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات پر جی ایس ٹی 18 فیصد،موبائل فونز پر جی ایس ٹی 18 فیصد کرنے جبکہ سمارٹ فونز پر جی ایس ٹی 25 فیصد جاری رہے گا ۔

تانبے ، کوئلے ، کاغذ اور پلاسٹک کے سکریپ پر سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کا امکان ہے،آئندہ مالی سال فاٹا اور پاٹا کی ٹیکس چھوٹ کا بتدریج خاتمہ کیا جائے گا ،نئے پلاٹوں اور رہائشی کمرشل پراپرٹی پر 5 فیصد ایف ای ڈی عائد کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔

ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم  ڈیوٹی کی چھوٹ کا خاتمہ،لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر رعائت کا خاتمہ ،شیشے کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں چھوٹ کا خاتمہ ،اسٹیل اور کاغذ کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

Watch Live Public News