امریکی ڈالر 206 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

امریکی ڈالر 206 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
پاکستان میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر تیزی سے گرتی جا رہی ہے۔ آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر چوراسی پیسے مہنگا ہو کر 206 روپے پر پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی فروخت 207 روپے کی ریکارڈ سطح پر دیکھی گئی۔ خیال رہے کہ شہباز حکومت کے صرف تین ماہ کے اندر اندر امریکی ڈالر 24 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔ ملکی تاریخ میں ڈالر کی قدر میں کبھی اتنی بڑھوتری نہیں دیکھی گئی۔ گذشتہ روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1 روپیہ 64 پیسے اضافے کے بعد 205 روپے 50 پیسے ہو گئی تھی۔ اس اہم معاملے پر بات کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کی ڈپٹی گورنر سیما کامل نے کہا ہے کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ جب تک پاکستان کا آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ نہ ہو جائے، کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ہماری کرنسی کی قدر کس قدر گرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ڈالر کی قدر کا تعین مارکیٹ میں کی جا رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ چونکہ وفاقی بجٹ پیش ہو چکا ہے، اس لئے آئی ایم کیساتھ معاہدہ ہو جائے گا۔ کرنسی ڈیلروں کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹے بازوں نے ملک میں جاری افواہوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ ملک کی معاشی صورتحال ایسے عناصر کیلئے بہت سودمند ثابت ہو رہی ہے۔ یہ بھی پڑھیں: پاکستان اپنا بجٹ معاہدے کے مطابق ڈھالے: آئی ایم ایف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) نے پاکستانی بجٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرائط اور معاہدے کے درمیان مطابقت کے لئے ابھی مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے بتایا گیا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ کچھ محصولات اور اخراجات کے بارے میں مزید وضاحت کے لیے بات چیت جاری ہے تاکہ ایک مکمل جائزہ لیا جا سکے۔ آئی ایم ایف کے ابتدائی جائزے کے مطابق بجٹ کو مستحکم بنانے اور اسے آئی ایم ایف پروگرام کے بنیادی مقاصد کے پورے کرنے کے لیے پاکستان کو اضافی اقدامات کی ضرورت ہوگی اور مالیاتی ادارے کے حکام اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں اور عمومی طور پر میکرو اکنامک استحکام کو فروغ دینے کی پالیسیوں کے نفاذ میں تعاون جاری رکھنے پر تیار ہیں۔ پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پریز رئز نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے انتہائی اہم بیل آؤٹ فنڈز کے اجرا کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی حکومت ادارے کی شرائط کا خیال رکھے۔ ایستھر پریز روئز نے بتایا کہ ہمارے ابتدائی جائزے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ بجٹ کو مستحکم بنانے کے لیے مزید اقدامات درکار ہوں گےتا کہ اسے آئی ایم ایف کے پروگرام کے مقاصد کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف نے بجٹ کے اعدادوشمار پر تحفظات کا اظہار کیا ہےجس میں تیل پر سبسڈی، بڑھتا ہوا کرنٹ اکاونٹ خسارہ اور مزید براہ راست ٹیکس لگانے جیسے معاملات شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت پر اعتماد ہے کہ وہ آئی ایم ایف کو آن بورڈ لانے کے لیے بجٹ میں ایڈجسٹمنٹ کرے گی۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ وہ اس ماہ ایک کامیاب ریویو لے سکیں گے۔
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔