قانون ہم توڑیں یا ملٹری، ایک ہی بات ہے، کب تک خود کو پاگل بنائیں گے،چیف جسٹس

قانون ہم توڑیں یا ملٹری، ایک ہی بات ہے، کب تک خود کو پاگل بنائیں گے،چیف جسٹس
کیپشن: Whether we break the law or the military, it is the same thing, how long will we make ourselves crazy, Chief Justice

ویب ڈیسک: نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ قانون ہم توڑیں یا ملٹری ایک ہی بات ہے۔ کب تک ہم خود کو پاگل بناتے رہیں گے۔ایک قانون کو معطل کرکے پھر اس کیس کو سناہی نہ جائے تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟ آپ کو قانون پسند نہیں تو پورا کیس سن کر کالعدم کردیں۔ایسے پھر پارلیمنٹ کو ہی کیوں نہ معطل کریں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر دائر انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت جاری ہے۔ یہ اپیلیں وفاقی حکومت نے دائر کر رکھی ہیں۔

مرکزی مقدمے میں درخواست گزار تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان ہیں، جن کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری اور عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرنے کے احکامات عدالت نے جاری کر رکھے ہیں۔

جمعرات کو مقدمے کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے۔

گزشتہ سماعت میں عدالت میں عمران خان کا خط پیش کیا گیا تھا جس میں انہوں نے عدالت میں پیش ہونے کی استدعا کی تھی۔

عمران خان اس وقت مخلتف مقدمات میں سزا یافتہ ہونے کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔

اڈیالہ جیل انتظامیہ کو گزشتہ روز سپریم کورٹ کے احکامات موصول ہوئے تھے جس کے بعد ویڈیو لنک کے ذریعے اُن کو عدالت عظمیٰ میں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے انتظامات کیے گئے۔

نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف حکومتی اپیلوں پر سماعت شروع ہوگئی۔ 

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔ جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ کا حصہ ہیں۔ بانی پی ٹی آٸی ویڈیولنک سے ذریعے عدالت میں ہیش ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آسمانی کلر کی شرٹ زیب تن کر رکھی ہے۔

وکیل خواجہ حارث بھی روسٹرم پر آگئے۔ چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اصل کیس میں وکیل تھے۔ آپ کے نہ آنے پرمایوسی تھی۔ ہم آپ کے مؤقف کو بھی سننا چاہیں گے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود ہے۔سینیٹر فیصل جاویدخان ،سابق سینیٹر اعظم سواتی ،سینیٹر شبلی فراز  ،رکن قومی اسمبلی علی محمد خان ،بانی چئیرمین کی بہنیں علیمہ خانم اور عظمی خانم کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔ وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ، سینیٹیر اور وکیل بابر اعوان سینئیر وکیل فیصل چودھری، بیرسٹر علی ظفر بھی موجود ہیں۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ،نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ سمیت  پی ٹی آئی کے 15 کے قریب وکلاء و رہنما سپریم کورٹ پہنچے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا بطور وکیل آپ نے فیس کا بل جمع کرایا۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے فیس نہیں چاہیے۔ چیف جسٹس نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تمام وکلاء سے سینئرہیں۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا آپ اس کیس میں وکالت کریں گے۔ جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جی میں عدالت کی معاونت کروں گا۔

وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغازکردیا۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کا معاملہ زیرالتواء ہے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا ہائی کورٹ میں زیر التواء درخواست سماعت کیلئے منظور ہوئی۔ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی اسے قابل سماعت قراردے دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیخلاف کیس کا مکمل ریکارڈ منگوا لیں۔ عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب ترمیم کیس پر ہوئی سماعت کا حکم نامہ طلب کر لیا۔

چیف جسٹس نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مخدوم علی خان آپ اونچی آواز میں دلائل دیں تاکہ ویڈیو لیک پر موجود بانی پی ٹی آئی بھی آپ کو سن سکیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیب ترامیم کیخلاف ہائیکورٹ میں درخواست اب بھی زیر سماعت ہے۔ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ کل میں نے چیک کیا ابھی تک زیر التوا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہوتے ہوئے یہ کیس سپریم کورٹ میں کیسے قابل سماعت ہوا؟ کیا مرکزی کیس کے فیصلے میں عدالت نے اس سوال کا جواب دیا تھا؟ 

مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ جی ہاں عدالت نے فیصلے میں اس معاملے کا ذکر کیا تھا۔ مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا متعلقہ پیراگراف عدالت میں پڑھ دیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چند ترمیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا۔ مخدوم علی خان آپ کیس میں موجود تھے اتنا عرصہ کیوں لگا دیا۔ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ کیس قابل سماعت ہونے کی بحث میں ہی کافی وقت لگا۔ الیکشن کے معاملےپر سپریم کورٹ میں پہلے نو رکنی لارجر بینچ تھا۔ دو ججوں نے معذرت  کی تو پھر سات رکنی بینچ باقی رہ گیا۔ 2 ججوں نے رائے کا اظہار کردیا اور کہا کیس قابل سماعت نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیس کے پہلے دن کوئی جج رائے کا اظہار کرے تو وہ بینچ سے الگ نہیں ہوجاتا۔ اس کیس میں کوئی جج اپنی رائے کا اظہار کردے تب بھی وہ بینچ کا حصہ رہے گا۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ فیصلے کی ایک اور چیز بھی اہم ہے۔ سپریم کورٹ کے تمام ججز نے کہا تھا کہ انتخابات 90 دن میں کرانے لازم ہیں۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا ہم کبھی بطور ملک آگے بڑھ سکیں گے؟ ایک قانون کو معطل کر کے پھر روزانہ کیس کو سن کر فیصلہ تو کرتے۔ کیا قانون معطل کر کے بینچ اس کے خلاف بنا کر دیگر مقدمات سنتے رہنا کیا یہ استحصال نہیں؟

مخدوم علی خان نے کہا کہ آپ نے بطور سینئر ترین جج یہ نقطہ اٹھایا تھا۔ 

چیف جسٹس نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اسے چھوڑیں کیا آپ کا اپنا کوئی نقطہ نظر نہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اپیل متاثرہ فریق دائر کر سکتا ہے اور وہ کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے۔ حکومت اس کیس میں متاثرہ فریق کیسے ہے؟ پریکٹس اینڈ پروسیجر کے تحت اپیل صرف متاثرہ شخص لائے گا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ صرف متاثرہ شخص نہیں قانون کہتا ہے متاثرہ فریق بھی لاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دو تشریحات ہو سکتی ہیں کہ اپیل کا حق صرف متاثرہ فریق تک محدود کیا گیا۔ متاثرہ فریق میں پھر بل پاس کرنے والے حکومتی بینچ کے ممبران بھی آسکتے ہیں۔ اگر اس طرح ہوا تو ہمارے سامنے 150 درخواستگزار کھڑے ہوں گے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ قانون سازوں نے ہی متاثرہ فریق کے الفاظ لکھے ہیں۔ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر معطل کرنا درست تھا یا غلط مگر بہر حال اس عدالت کے حکم سے معطل تھا۔ 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک قانون کو معطل کرکے پھر اس کیس کو سناہی نہ جائے تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟ آپ کو قانون پسند نہیں تو پورا کیس سن کر کالعدم کردیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ بل کی سطح پر قانون کو معطل کرنا کیا پارلیمانی کارروائی معطل کرنے کے مترادف نہیں؟ 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسے پھر پارلیمنٹ کو ہی کیوں نہ معطل کریں۔ ہم قانون توڑیں یا ملٹری توڑے ایک ہی بات ہے۔ ہم کب تک خود کو پاگل بناتے رہیں گے۔

عدالت نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی۔