عوامی فلاح کے منصوبے میں خرابی یا تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، شہباز شریف

عوامی فلاح کے منصوبے میں خرابی یا تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، شہباز شریف

(ویب ڈیسک )  وزیراعظم نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ڈیزائن میں نقائص اور ذمہ داری کے تعین کیلئے کابینہ کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا اور کہا کہ   عوامی فلاح کے منصوبے میں خرابی یا تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔

وزیر اعظم   شہباز شریف نے   نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے دورہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ  نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر ملک کے تقریباً 5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، اس کا ابتدائی تخمینہ 840 ملین ڈالر تھا جو بڑھ کر 5 ارب ڈالر تک جا پہنچا اور ساتھ ساتھ وقت بھی ضائع ہوا، اس منصوبہ پر فی میگاواٹ لاگت 4 سے ساڑھے چار ملین ڈالر ہے، پچھلے چند سالوں میں ساڑھے تین ہزار میگاواٹ کے ایل این جی کے چار منصوبے لگائے گئے، 5 ارب ڈالر میں ایل این جی کے دگنے منصوبے لگ سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کا شمار پاکستان میں توانائی کے بڑے منصوبوں میں ہوتا ہے، یہ پن بجلی کا ایک بڑا منصوبہ ہے اور اس میں خرابی پیدا ہونے کا دوسرا واقعہ پیش آیا ہے، اس سے پہلے جولائی 2023 میں خرابی پیدا ہوئی تھی، اس کی انکوائری رپورٹ کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی جا سکی، یہ بھی ایک چیلنج ہے، منصوبے میں خرابی کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین ہونا چاہئے تھا، سستی بجلی کی ترسیل کو یقینی بنانے کیلئے اس وقت کے چیئرمین واپڈا اور سیکرٹری پانی و بجلی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے دن رات ایک کرکے اس منصوبہ سے پیداوار کا دوبارہ آغاز کرایا لیکن اپریل 2024 میں یہ منصوبہ دوبارہ خرابی کا شکار ہوا۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ منصوبوں میں تاخیر قوم سے زیادتی ہے، اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اربوں ڈالر خرچ کرکے منصوبہ مکمل کیا جائے اور اس میں ڈیزائن کے نقائص سامنے آ جائیں، کیا اتنا بڑا منصوبہ جب لگ رہا تھا اور اس کا ڈیزائن بنایا جا رہا تھا تو اس کی اور کنٹریکٹرز کی تھرڈ پارٹی تصدیق کرائی گئی؟ ارضیاتی خطرات کو سامنے رکھ کر ڈیزائن بنایا جانا چاہئے تھا اور احتیاط برتنی چاہئے تھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ اس منصوبہ کے حوالہ سے آئی پی او کی جو ایک عبوری رپورٹ آئی ہے اس حوالہ سے رواں ماہ ہی ایک حتمی رپورٹ تیار کی جانی چاہئے، ڈیزائنر، کنٹریکٹرز اور جو بھی ذمہ دار ہے اس کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہئے۔عوامی فلاح کے منصوبے میں خرابی یا تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، ایک کابینہ کمیٹی بھی تشکیل دی جا رہی ہے جس میں ماہرین بھی شامل کئے جائیں گے جو ذمہ داری کا تعین کرے گی، دنیا میں ایسے بہت سے منصوبے لگے ہوئے ہیں جہاں چیلنج ہوتے ہیں وہاں پر اسی طرح کی مہارت بھی پائی جاتی ہے، انہی سے انکوائری کیسے کرائی جا سکتی ہے جنہوں نے اس خرابی کو روکنے کیلئے کردار ادا نہیں کیا، یہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام سے زیادتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  اگر غلطی ہو گئی ہے اور کسی نے زیادتی کی ہے تو اس کو اس کا ہرجانہ ادا کرنا ہو گا، یہ قوم کی امانت ہے اس کا جواب ہمیں قوم کو دینا ہے، چیئرمین واپڈا اسی ماہ رپورٹ کو حتمی شکل دے کر پیش کریں، ہیڈٹنل میں خرابی دور کرنے کیلئے 10 کی بجائے 12 دن لے لیں لیکن اس خرابی کو دور ہونا چاہئے، نیلم جہلم پاور پراجیکٹ میں پیدا ہونے والی دوسری خرابی کی وجوہات جاننے کیلئے بھی تحقیقات کرائی جائیں، اس میں اب تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔