پاکستانی طالب علم نے 22 ملکوں کے طلبا کو ہرا کر پہلی پوزیشن جیت لی  

پاکستانی طالب علم نے 22 ملکوں کے طلبا کو ہرا کر پہلی پوزیشن جیت لی  
سورس: ویب ڈیسک

ویب ڈیسک: پاکستانی طالب علم کا کارنامہ  22 ملکوں کے طلبا کو ہرا کر پہلی پوزیشن اپنے نام کر لی۔

تفصیلات کے مطابق اسا اور رائس یونیورسٹی ہیوسٹن کے زیر اہتمام ، 2024 کے بین الاقوامی مقابلے،“ گلوبل کوپرنیکس اولمپیاڈ “ میں پاکستانی طالب علم نے 22 ملکوں کے طلبا کو ہرا کر پہلی پوزیشن جیت لی۔  

 مقابلے میں امریکا سمیت دنیا بھر سے 22 ملکوں کے 500 سے زیادہ  طلبا شریک تھے مگر ایچی سن کالج لاہور کے  16 سالہ  پاکستانی طالبعلم سودیس شاہد  نے سب کو ہرا دیا۔

 اے لیول کے طالب علم سودیس شاہد نے اپنی کامیابی کے لئے اپنے والدین کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کلاس ٹو میں ان کے والد نے ان سے کہا تھا کہ بیٹا میرے لئے تمہارا بہترین گفٹ وہ ہوگا جو تم اپنی محنت سے حاصل کر کے مجھے دو گے اور وہ ہے کلاس میں تمہاری اول پوزیشن۔اور اس وقت سے لے کر اب تک میں انہیں یہ تحفہ پیش کرتا رہا ہوں۔

ودیس شاہد نے بتایا کہ انہوں نے اولمپیاڈ کی سب سے مشکل کیٹگری 5 میں حصہ لیا اور اس میں اول پوزیشن حاصل کر کے گولڈ میڈل جیتا جب کہ انہیں پورے اولمپیاڈ کا ایک حتمی فاتح بھی قرار دیا گیا جس پر انہیں ایک لیپ ٹاپ انعام میں دیا گیا۔

سودیس شاہد نے بتایا کہ اس وقت کوپر نیکس اولمپیاڈ، نیچرل سائنسز، فلم فیسٹیول، انٹرپرینیورشپ ،اور ریاضی کےشعبوں میں مقابلوں کا انعقاد کرتا ہے ۔ ان میں دنیا بھر کے کسی بھی ملک کے گریڈ 3 سے گریڈ 12 تک کے طالبعلم حصہ لے سکتےہیں ۔

اس سال کا یہ پانچواں گلوبل مقابلہ تھا جو 9 جنوری سے 13 جنوری 2024 تک جاری رہا ۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال کا مقابلہ دو کٹیگریز پر مشتمل تھا. پہلی کیٹیگری فزکس اور اسٹرانومی اور دوسری نیچرل سائنسز پر مشتمل تھی ۔۔ جن میں فزکس ، کیمسٹری ، بیالوجی ، ارتھ سائنسز، اسڑونومی،مائیکولوجی، ٹیکسونومی اور ایناٹمی شامل تھے ۔

انہوں نےبتایا کہ اس سے قبل وہ انٹر نیشنل جرمن اولمپیاڈ کے قومی مقابلے میں پہلے نمبر پر رہے تھے جس کے بعد جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں منعقدہ انٹر نیشنل مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

انہوں نےجنوب مشرقی ایشیا کے میتھس اولمپیاڈ میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا، امیریکن میتھس اولمپیاڈ، اے ایم او، میں دو بار گولڈ میڈل جیتا ، انٹر نیشنل یوتھ میتھ چیلنج میں دو بار کانسی کا تمغہ حاصل کیا جب کہ وہ رائل کوئینز کامن ویلتھ کی طرف سےمنعقدہ مضمون نویسی کے مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیت چکے ہیں

انہوں نے بتایاکہ وہ لاہور کی یونیورسٹی لمز اور کراچی گرامر اسکول جیسے اداروں کی طرف سے منعقدہ سائنس ،ٹیکنالوجی، انجنئیرنگ اینڈ میتھس ( STEM ) کے انٹر اسکول اسٹیم اولمپیاڈز میں بھی حصہ لیتے رہے ہیں ، ایچ آر سی اے کے سائنس مقابلے میں بھی گولڈ میڈلسٹ رہے ہیں۔جب کہ وہ پاکستان کیمسٹری ٹورنا منٹ 2023 بھی جیت چکے ہیں جس کے بعد اس سال وہ انٹر نیشنل کیمسٹری ٹورنا منٹ میں پاکستان کی کیمسٹری ٹیم کے کیپٹن کے طور پر شرکت کر چکے ہیں۔

تین بہنوں کے اکلوتے بھائی سودیس شاہد نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے والدین ،تین بہنوں کی دعاؤں اور میری محنت کا ثمر ہے اور اس ایوارڈ کے ذریعے مجھے اپنے لیے، اپنے تعلیمی ادارے کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنے ملک پاکستان کے لیے بھی ایک اعزاز لانے کا موقع ملا ہے ۔

اپنی کامیابیوں میں اپنی والدہ کے عمل دخل پر بات کرتے ہوئے سودیس نے کہا کہ آپ کو شاید یہ بات عجیب لگے لیکن سچ یہ ہے کہ آج بھی جب میں کالج کا اسٹوڈنٹ ہوں، اور اپنی تعلیم یا مقابلوں کی تیاری کےلیےراتوں کو دیر تک جاگتا ہوں تو میری امی آج بھی میرے ساتھ اس وقت تک بیٹھی رہتی ہیں جب تک میں جاگ کر پڑھتا رہتا ہوں۔ بالکل اسی طرح جیسے وہ پرائمری کلاسز میں ہوم ورک اور امتحان کی تیاری کراتے ہوئے میرے ساتھ جاگا کرتی تھیں۔

سودیس شاہد میڈیکل ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے ملک کے تعلیمی اداروں میں بھی امریکی تعلیمی اداروں کی طرح کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کو زیادہ سے زیادہ شامل کیا جائے ۔