'میں نے عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا'

'میں نے عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا'
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے کہا ہے کہ میں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) یا عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔ ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ اس کے بعد بھی میرا کوئی بیان آئے تو میرا نہیں ہو گا، میرا تحریری بیان بھی آئے تو وہ میرا نہیں ہو گا وہ تشدد سے لیا ہو گا۔ شہباز گل کو اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا ،دوران سماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے روسٹرم پر بولنا شروع کردیا۔ شہباز گل نے کہا کہ پچھلے پانچ دن سے کپڑے نہیں دئیے گئے ، پانچ دنوں سے میں نہایا نہیں ہوں ، میرے گھر سے کپڑے دیکر گئے انہوں چھین لیے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چار روز سے میں ہنگر سٹرائیک پر ہوں، پانچ روز سے ہسپتال میں میری تفتیشی ہو رہی ہے ، میں تشدد کا نشانہ نہیں بننا چاہتا، آپ کی سوچ ہے جو تشدد کیا جا رہا ہے ۔ شہباز گل نے کہا کہ مجھے صبح کوئی دوائی پلائی گئی، مجھے جو بیماری ہے اس کے ٹھیک ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے ،اس وقت میری چیسٹ کھلی ہے میں بیمار ہوں، ڈاکٹر نے ابھی جو کہا ہے وہ بھی آپ دیکھ لیں۔ پی ٹی آئی رہنما شہباز گل ک کہنا تھا کہ آپ نے مجھے زندہ دیکھنا ہے یا نہیں؟ میں کوئی بہانے نہیں کر رہا، پمز میں مجھے کوئی ڈاکٹر سارا سارا دن نہیں دیکھتا تھا ، یہ سب خانہ پوری ہو رہی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ میری عینک چھین لی گئی نا گھر سے آیا چشمہ مجھے دیا گیا ، ایک حیوان کی طرح مجھے رکھا گیا ،جب چاہتے ہیں دس بارہ لوگ آتے ہیں جو چاہے کرتے ہیں۔ شہباز گل نے کہا کہ مجھ پر پریشر ڈالا جا رہا ہے کہ عمران خان کے خلاف بیان دوں، میں نے پی ٹی آئی یا عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا، ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ اس کے بعد بھی میرا کوئی بیان آئے تو میرا نہیں ہو گا، میرا تحریری بیان بھی آئے تو وہ میرا نہیں ہو گا وہ تشدد سے لیا ہو گا۔ بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شہباز گل کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے محفوظ فیصلہ سنا یا۔عدالت نے کہا کہ شہباز گل کو 24 اگست کو دوبارہ پیش کیا جائے۔

Watch Live Public News

ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔