افغان حکومت ٹی ٹی پی اور اس کی ذیلی تنظیموں سے تعلق ختم کرے، منیر اکرم

افغان حکومت ٹی ٹی پی اور اس کی ذیلی تنظیموں سے تعلق ختم کرے، منیر اکرم
کیپشن: Afghan government should cut ties with TTP and its affiliates, Munir Akram

ویب ڈیسک: اقوام متحدہ میں مستقل پاکستانی مندوب منیر اکرم نے کہا کہ ’پاکستان نے اعلیٰ سطح پر کئی بار افغانستان کی عبوری انتظامیہ سے رابطہ کر کے ان حملوں کو روکنے کا کہا ہے لیکن بدقسمتی سے کئی بار وعدوں کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

’پاکستانی سرحد کے قریب اب بھی دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ سرحد پار حملے جاری ہیں اور ٹی ٹی پی کے ذیلی گروپ داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کام کرنے والے کئی چینی انجینئرز کو قتل کر چکے ہیں۔‘

منیر اکرم کا اپنی تقریر میں مزید کہنا تھا کہ ’16 مارچ کو حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے سرحد پار سے ایک حملے میں کئی پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا۔

’جس کے بعد 18 مارچ کو پاکستان نے سرحد کے قریب افغانستان میں واقع دہشت گردوں کے ٹھکانے کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں نشانہ بنایا تاکہ ہم ایسے حملوں سے اپنی زمین کا دفاع کر سکیں۔ اس حملے میں دہشت گرد مارے گئے، عام شہری نہیں۔‘

انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ’اس بات کی تحقیقات کرے کہ ٹی ٹی پی کو جدید اسلحہ اور فنڈنگ ملنے کے ذرائع کیا ہیں، جن میں بیرونی ذرائع بھی شامل ہیں، جو 50 ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو میسر ہیں۔‘

پاکستانی مندوب کے مطابق پاکستان پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ افغانستان میں اور افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان اور عالمی برادری کی اولین ترجیح ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق پاکستانی مندوب نے کہا کہ ’گو کہ پاکستان نے افغانستان کی عبوری انتظامیہ سے رابطہ رکھنے پر زور دیا ہے تاکہ افغانستان کی صورت حال کو معمول پر لایا جا سکے، لیکن بین الاقوامی برادری اور افغانستان کی عبوری حکومت کو اپنے مقاصد کے بارے میں واضح موقف اختیار کرنا ہو گا۔ جب تک ہم یہ نہیں جانتے کہ ہم کیسا مستقبل چاہتے ہیں ہم وہ حاصل نہیں کر سکتے۔‘

منیر اکرم نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ افغانستان کی عبوری انتظامیہ سے مطالبہ کرے کہ وہ ٹی ٹی پی اور اس کی ذیلی تنظیموں سے تعلق ختم کر دے۔ انہیں پاکستان کے خلاف سرحد پار سے حملے کرنے سے روکے۔ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو غیر مسلح کرے اور اس کی قیادت کو پکڑ کر پاکستان کے حوالے کرے۔

پاکستانی مندوب نے افغانستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عالمی برادری کو افغانستان میں خواتین پر عائد پابندیوں پر تشویش ہے۔

’یہ پابندیاں عالمی قوانین یا اسلامی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ افغانستان کی عبوری انتظامیہ سے توقع ہے کہ وہ خواتین اور بچیوں کو تعلیم، کام کرنے اور ان کے انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے گی۔

Watch Live Public News