’خوش نصیب ممالک تھے جو 1992 کا ورلڈ کپ ہار گئے‘

’خوش نصیب ممالک تھے جو 1992 کا ورلڈ کپ ہار گئے‘
اسلام آباد ( پبلک نیوز) پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ ایک سو بیس لوگوں کو کفایت شعاری کے نام پہ رکھا گیا ہے ٗ ان لوگوں کا کام صرف پچھلی حکومت کو الزام دینا ہے ٗ باقی انہوں نے کچھ نہیں کرنا ٗ تین سالوں میں انہوں نے کچھ نہیں کیا اور نہ آنیوالے دو سالوں میں کریں گے۔قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ آج لوگ گلی کوچوں میں یہ بات کرتے ہوئے ملتے ہیں کہ وہ ممالک کتنے خوش نصیب تھے جو 1992 میں ورلڈ کپ ہار گئے تھے ٗ کوئی ایٹم بم اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا شیشے کے اس مرتبان نے پہنچایا ہے ٗ ٗ ایک کروڑ نوکریاں نہیں دی ٗ اب کہتے ہیں ہر گھر سے ایک بندہ کو ٹریننگ دیں گے ٗ کرونا سے ان لوگوں کی لاٹری نکل آئی ٗ کووڈ میں انکو سود ادا نہیں کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ہری پور جیل کا ایک محمد اشفاق نامی آدمی ہے اس کا بیلٹ میں نام نکل آیا ٗ اس کی تنخواہ ہے 35 ہزار ٗ اس کو ہر کوارٹر میں تین لاکھ دینے ہیں اور اس کو گھر ملے گا آخر میں 66 لاکھ کا پشاور کا جہاں آج بھی پانچ لاکھ کا مل جاتا ہے ٗ عجیب و غریب بیلٹ وزیر اعظم نے کیا ٗ پندرہ لاکھ آدمیوں کا بیلٹ کیا ٗ پانچ پرچیاں نکالیں وہ پانچ نکل آئے جو سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔ایک تو قرعہ اندازی کا یہ عالم تھا ۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے اب کہہ رہے ہیؒں کہ ہر گھر سے ایک آدمی کو ٹریننگ دیں گے ٗ مجھےیقین ہے کہ اگلے بجٹ میں یہ ہر آدمی کو راستہ بتائیں گے کہ جائو وہاں سے ٹریننگ ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس فلور پر ثبوت پیش کیے چئئرمین نیب بلیک میل ہو رہا ہے ٗ حکومت کی پچاس فیصد وزراء کو کابیینہ سے نکالا گیا ٗ جس کو وزارت سے نکالا اسکی دوسری وزارت دے دی ٗ خود مانتے ہیں کرپشن ہے، کارکردگی ٹھیک نہیں،پھر دوسری وزارت دے دیتے ہیں۔