’پاکستان مخالف بیانئے کی قیمت دی جاتی ہے‘

’پاکستان مخالف بیانئے کی قیمت دی جاتی ہے‘

اسلام آباد:(پبلک نیوز) وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ عالمی میڈیا پر پاکستان مخالف بیانیہ کے ساتھ کھڑے ہونے والے ملک کے خیر خواہ نہیں، افغانستان سے پاکستان کے خلاف تحریک کیا مفت میں ہو رہی ہے، امریکہ کے اخبار میں آرٹیکل مفت میں لکھے جا رہے ہیں ؟ ہر لفظ کی قیمت دی جاتی ہے۔

وزیر اطلاعات و نشریات چودھری فواد حسین نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 20سال دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی، گزشتہ دنوں انفو لیب پکڑی گئی انفو لیب کے ذریعے پاکستان مخالف اقدامات کیے گئے، گزشتہ حکومتوں نے وزارت اطلاعات کے اداروں میں صرف بھرتیاں کیں۔ انکا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کیلئے845سے زیادہ ویب سائٹس بنائیں، اداروں کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، گزشتہ حکومتوں نے سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کر کے اداروں کو تباہ کیا، ہم اداروں کو مستحکم کر رہے ہیں، اگست کے پہلے ہفتے میں پی ٹی وی ایچ ڈی ہو جائے گا، اے پی پی کو ڈیجیٹل نیوز ایجنسی کی شکل دینگے، اگست میں ریڈیو پاکستان کی نئی پروگرامنگ ترتیب دینگے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ صحافیوں پر سب سے زیادہ حملے پیپلز پارٹی کے دور میں ہوئے، مسلم لیگ ن کے دور میں 18صحافیوں پر حملے ہوئے، مریم اورنگزیب نے فیک نیوز پر مہم چلائی، صحافیوں کو کامیاب جوان پروگرام کا حصہ بنایا ہے، صحافیوں کی جان کو خطرے کی بات کی گئی، ایک بین الاقوامی پروپگیںنڈا کو سہارا دیا جا رہا ہے، اپوزیشن کو اس حوالے سے وارن کرنا چاہتا ہوں .

فواد چودھری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں صحافیوں پر انتالیس حملے ہوئے جبکہ 32 کو قتل کیا گیا۔ ن لیگ دور میں 18 حملے اور 14 قتل ہوئے ، پی ٹی آئی کے دور میں 8 حملے ہوئے۔ صرف دو صحافیوں نوشہرہ فیروز اور سکھر کے ملزمان کا نہیں پتہ چل سکا ، شازیہ مری ہمیں بتائیں وہ کون ہیں؟ ہم شرمندہ ہوتے ہیں سندھ حکومت کی کارکردگی پر۔

قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی کارکردگی پر ہمیشہ سوال اٹھتا ہے، پوچھا کہ مغرب میں کوئی فلم بنی، کوئی کتاب چھپی جس میں ہمارا بیانیہ آتا ہے، پاکستان کا بجٹ چار کروڑ ہے بھارت کا 21 ارب ہے ، ٹی ایل پی کے پروٹسٹ پر ساڑھے تین لالھ ٹوئیٹ بھارت سے کئی گئیں۔ گزشتہ حکومتوں نے وزارت اطلاعات کو حکمران جماعت کا ترجمان بنایا۔ ہم نے وزارت اطلاعات کو ریاست کا ترجمان بنایا ہے، افغانستان سے جو پاکستان مخالف boast ملتا ہے، ہمارے نادان دوست اسکا حصہ بنتے ہیں، ریاستی میڈیا کی آپ کو کیا ضرورت ہے جب بین الاقوامی میڈیا آپ کے پیچھے کھڑا ہے، ایک بندی لندن میں موجود ہیں ، لندن ایمبسی کے سامنے مظاہرے کرتی ہیں اور انکی گفتگو کو لندن کے ٹاپ میڈیا میں جگہ دی جاتی ہے، افغانستان سے پاکستان کے خلاف تحریک کیا مفت میں ہو رہی ہے، امریکہ کے اخبار میں آرٹیکل مفت میں لکھے جا رہے ہیں ؟ ہر لفظ کی قیمت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاچھوٹے چھوٹے مفاد کے لیے بین الاقومی اسٹیبلشنمٹ کے لیے استعمال ہو جاتے ہیں، بلاول بھٹو سے کہتا ہوں کہ آپ کی کمیٹی میں صحافیوں کے تحفظ کا بل پڑا ہے ، آپ اس پر کیوں بیٹھے ہوئے ہیں اسے منظور کریں۔

مصنّف پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے فارغ التحصیل ہیں اور دنیا نیوز اور نیادور میڈیا سے بطور اردو کانٹینٹ کریٹر منسلک رہے ہیں، حال ہی میں پبلک نیوز سے وابستہ ہوئے ہیں۔