ٹک ٹاک پر مستقل پابندی؟ پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

ٹک ٹاک پر مستقل پابندی؟ پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر نازیبا اور غیر اخلاقی مواد پر پابندی عائد کرنے بارے درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ جارے کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹک ٹاک پر مستقل طور پر بند نہیں کیا جا سکتا۔ ہم پاکستان کو دنیا سے منقطع نہیں کر سکتے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی اے کے نمائندے نے عدالت عالیہ میں پیش ہوکر یقین دہانی کرائی کہ ٹک ٹاک سے نازیبا اور غیر اخلاقی مواد کی حامل لاکھوں ویڈیوز کو ہٹا دیا گیا ہے جبکہ ایسی ویڈیوز اور مواد کو اپ لوڈ کرنے والے صارفین کے اکائونٹس کو بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصر راشد خان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی درخواست کو خارج کردیا۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وہ ٹک ٹاک کپمنی کے افسران مسلسل رابطے میں ہیں۔ اس معاملے کے حل کیلئے ایک جامع طریقہ کار طے کر لیا گیا ہے جس کے پیش نظر ایسے اکائونٹس جو ٹک ٹاک پر نازیبا مواد اپ لوڈ کرتے ہیں ان پر پہلے پابندی لگا کر ان کو وارننگ دی جاتی ہے اور اس کے بعد ان کو مکمل طور پر بند کر دیا جاتا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے 2 رکنی بنچ نے ٹک ٹاک پر پابندی کی درخواست خارج کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے کو درخواست پیش کی گئی، پی ٹٰ اے کے اقدامات کے بعد اس کا مقصد پورا کیا جا چکا ہے۔ خیال رہے کہ پشاور کی عدالت عالیہ میں میں یہ درخواست درجنوں شہریوں کی طرف سے مشترکہ طور پر داخؒ کی گئی تھی۔ درخواست میں ایف آئی اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کو ویڈیو اینڈ شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی اپیل کی گئی تھی۔
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔