یوکرین روس جنگ: بھارت پر بھی عالمی پابندیاں لگ سکتی ہیں

یوکرین روس جنگ: بھارت پر بھی عالمی پابندیاں لگ سکتی ہیں

یوکرین روس جنگ کے سلسلے میں بھارت پر بھی عالمی پابندیاں لگ سکتی ہیں کیونکہ امریکا روس سے مہلک ہتھیار خریدنے کی وجہ سے بھارت سے ناراض ہے.

امریکی صدر جو بائیڈن فیصلہ کریں گے کہ آیا روس سے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری پر CAATSA قانون کے تحت بھارت پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے یہ معلومات امریکی قانون سازوں کو دی۔ کاؤنٹرنگ امریکہز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ ( CAATSA) کے تحت، امریکی انتظامیہ کو ایران، شمالی کوریا یا روس کے ساتھ اہم لین دین رکھنے والے کسی بھی ملک کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اختیار ہے.

CAATSA قانون کیا ہے؟

CAATSA ایک سخت امریکی قانون ہے جو 2014 میں روس کے کریمیا کے الحاق اور 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ولادیمیر پوٹن کی مبینہ مداخلت کے جواب میں واشنگٹن کو ان ممالک پر پابندیاں لگانے کا اختیار دیتا ہے۔ جو ماسکو سے بڑے دفاعی ساز و سامان خریدتا ہو۔

جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونالڈ لو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی ذیلی کمیٹی برائے مشرق، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور انسداد دہشت گردی کے امور کے اراکین سے بھارت کے خلاف ممکنہ CAATSA پابندیوں کے بارے میں ایک سوال پر بتایا۔ صدر جو بائیڈن نئی دہلی پر پابندی لگانے یا نہ لگانے کا فیصلہ کریں گے۔

ڈونلڈ لو نے کہا، 'میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بائیڈن انتظامیہ CAATSA قانون کی پاسداری کرے گی اور اسے مکمل طور پر نافذ کرے گی۔ انتظامیہ اس کے کسی بھی پہلو پر آگے بڑھنے سے پہلے کانگریس سے مشورہ کرے گی۔ “بدقسمتی سے، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ بھارت کے خلاف پابندیاں لگانے کے معاملے میں صدر یا وزیر خارجہ کے فیصلے کے بارے میں کوئی اندازہ لگا سکوں۔ میں یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ یوکرین پر روس کی فوجی کارروائی کا اس فیصلے پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں۔

ڈونلڈ لو نے واضح کیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے ابھی تک CAATSA کے تحت ہندوستان پر پابندیاں عائد کرنے کے معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ' بھارت ہمارا سیکورٹی پارٹنر ہے۔ ہم اس شراکت داری کو آگے لے جانے کے منتظر ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جس طرح روس کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس سے ہندوستان سمجھے گا کہ ماسکو سے دوری اختیار کرنے کا وقت آگیا ہے۔

ڈونلڈ لو نے دعویٰ کیا کہ روسی بینکوں پر عائد وسیع پابندیوں کی وجہ سے کسی بھی ملک کے لیے روس سے بڑے ہتھیاروں کے نظام خریدنا انتہائی مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ "گزشتہ چند ہفتوں میں، ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح ہندوستان نے MiG-29 کے آرڈرز، روسی ہیلی کاپٹروں اور اینٹی ٹینک ہتھیاروں کے آرڈرز کو منسوخ کر دیا۔"

واضح رہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونالڈ لو کا یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندوستان کو بدھ کو اقوام متحدہ میں یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کی قرارداد پر ووٹنگ سے باز رہنے پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں کی تنقید کا سامنا ہے۔

ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔