ویب ڈیسک: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ میں ایک اور بھارتی نژاد امریکی وکیل ہرمیت کور ڈھلوں کو اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
یادرہے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والی وکیل ہرمیت ڈھلوں اظہار رائے کی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ٹرمپ نے سماجی رابطے کی اپنی سائٹ ’’ ٹرتھ سوشل’’ پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ ہرمیت کور نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو چیلنج کیا اورسینسرشپ کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ ان کا شمار ملک کی بہترین الیکشن اٹارنیز میں ہوتا ہے اور اب وہ محکمہ انصاف میں آئینی حقوق کی محافظ کے طور پر خدمات انجام دیں گی۔
ہرمیت کور ڈھلوں کون ہیں؟
ہرمیت کور ڈھلوں 2 اپریل 1969 کو بھارت کے شہر چندی گڑھ، میں پیدا ہوئیں۔ دو سال کی عمر میں ان کے خاندان نے مستقل طورپر امریکا میں رہائش اختیار کرلی۔ ابتدائی تعلیم امریکی ریاست نارتھ کیرولینا میں حاصل کرنے کے بعد خاندان کے ہمراہ نیویارک منتقل ہوگئیں۔
ہرمیت کور نے ڈارٹ ماؤتھ کالج سے انگریزی میں گریجویشن کے بعد اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز بطور لا کلرک کیا۔
انہوں نے محکمہ انصاف کے کانسٹیٹوشنل ٹورٹس سیکشن کے لیے کام کیا اور 2006 میں اپنی لا فرم ’ڈھلوں لا گروپ‘ کی بنیاد رکھی۔
ہرمیت کور کو اس وقت مقبولیت حاصل ہوئی جب ریپبلکن نیشنل کنونشن میں، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے، انہوں نے صدر کی فتح کے لئے سکھوں کی مذہبی دعائیہ نماز ’ارداس‘ کیا۔