ملک کواسلامی فلاحی ریاست بنانے کے سفر کا آغاز ہو گیا

ملک کواسلامی فلاحی ریاست بنانے کے سفر کا آغاز ہو گیا
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے سفر کا آغاز کردیا ہے، عوام بالخصوص نوجوانوں اور بچو ں کو نبی کریم ﷺ کی سیرت اور تعلیمات سے روشناس کرانے اور غلط و صحیح میں امتیاز سکھانے کی ضرورت ہے، رحمت اللعالمین اتھارٹی اس سلسلہ میں روڈ میپ دے گی، مغربی ممالک میں کوئی عوام کا پیسہ چوری کرنے کا سوچ نہیں سکتا، یہاں کرپشن کرنے والوں پر پھول نچھاور کئے جاتے ہیں، معاشرے کو ان مافیاز کے خلاف جہاد کرنا ہو گا جو قانون کی حکمرانی نہیں چاہتے اور این آر او کے لئے بلیک میل کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےجمعرات کو قومی رحمت اللعالمینؐ اتھارٹی کے مکمل فعال ہونے کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر انیس احمد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اتھارٹی کا روڈ میپ پیش کیاہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ قوم کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس اتھارٹی کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں جو پیغام دیا ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو اس پیغام سے آگاہ کرنا ہو گا ۔ ہمیں بچوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ ہم نماز میں جب ان لوگوں کے راستے پر چلنے کی دعا کرتے ہیں جو انعام یافتہ ہیں تو اس سے کیا مراد ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے جو کامیابیاں حاصل کیں و ہ تاریخ میں کسی اور کے حصے میں نہیں آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات اور نقش قدم پر چلنے کا حکم دیا۔ نبی کریم ﷺ کاراستہ آسان نہیں تھا لیکن یہ انسان کی عظمت کا راستہ تھا۔ جب ہم سکولوں میں تھے تو ہمیں یہ چیزیں نہیں پڑھائی گئیں اور یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کون سے اصول تھے جن پر عمل کر کے مسلمان دنیا پر چھا گئے اور وقت کی طاقتوں کو شکست دی۔ اس کی بجائے مغرب کے راستے پر چلنے کو ترقی کا راستہ سمجھا جاتا تھا۔ وزیراعظم نے کہاکہ میں نے اپنی اور مغربی دونوں ثقافتوں کو اندر سے دیکھا ہے اور اس کے تجزیے اور نبی کریم ﷺ کی سیرت کے مطالعہ کے بعد میری سوچ میں تبدیلی آئی ۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نےمدینہ کی ریاست میں عدل و انصاف قائم کیا اور ایک فلاحی ریاست قائم کی اور انسانوں کی کردار سازی کی۔ ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ کیسے عرب کے مسلمان دنیا کی امامت کے قابل ہو گئے ،در اصل یہ انقلاب اس کردار کی بدولت آیا جو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات نے پیدا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ برائی کے خلاف کھڑے ہونے کی صلاحیت ہی کسی ریاست کی بنیاد ہوتی ہے، مغربی ممالک میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ کسی مقصود چپڑاسی کے نام پر کوئی پیسہ چوری کرے، ایسا شخص کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا، کسی کا جھوٹ پکڑا جائے تو وہ سزا سے بچ نہیں سکتا اور معاشرہ بھی ایسے شخص کی عزت نہیں کرتا، سنگاپور میں حکمران کا ایک قریبی شخص کرپشن پر پکڑا گیا تو اس نے شرم کے مارے خودکشی کر لی، امریکہ ، جاپان، برطانیہ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا میں کسی پر کرپشن کا دھبہ بھی لگ جائے تو وہ اس کیلئے زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہاں چوروں پر نیب عدالتوں کے باہر پھول پھینکے جاتے ہیں اور بڑے بڑے صحافی کہتے ہیں کہ پیسہ لوٹ کر ملک سے باہر جا بیٹھنے والوں کو تقریریں کرنے دو اور وکیل کہتے ہیں کہ ان کی نااہلی ختم کرو۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاشرے میں جنسی جرائم اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، اساتذہ، علما سمیت معاشرے کو مل کر اس کے خلاف مہم چلانا ہوگی، ایسے واقعات میں لوگ بدنامی کے ڈر سے مقدمات بھی درج نہیں کراتے۔
ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔