’225 ارب کے مزید ٹیکس معاشی تباہی کا پیش خیمہ ہے‘

’225 ارب کے مزید ٹیکس معاشی تباہی کا پیش خیمہ ہے‘
لاہور ( پبلک نیوز) اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ 225 ارب کے مزید ٹیکس معاشی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ عوام کو ہر روز ایک نئی تکلیف میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ کپاس ساڑھے پندرہ ہزار فی 40 کلو کی بلند ترین سطح پر ہے۔ برآمد کنندگان اور ملرز پہلے ہی پریشان بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ بڑھا کر حکومت پہلے ہی اپنے بجٹ پر یوٹرن لے چکی ہے۔ مہنگائی کا سورج غریبوں کا حلق خشک کر چکا ہے۔ ریلیف کے بجائے عوام کو ہر روز ایک نئی تکلیف میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط ماننے والے حکمران قوم کو خودکشی پر مجبور کر رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا آرڈیننس کے ذریعے بڑی قانونی ترامیم پارلیمنٹ پر عدم اعتماد اور غیر آئینی و غیر جمہوری رویہ ہے۔ یہ پارلیمنٹ ہی نہیں عدلیہ پر بھی حملہ ہے۔ حکومت نے خود کو بچا کر اداروں کی آئینی آزادی چھیننے کا قدم اٹھایا ہے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مزید ٹیکس لگانے پر حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ 225 ارب کے مزید ٹیکس ملک میں معاشی تباہی۔ بے روزگاری اور مہنگائی کا قیامت خیز زلزلہ ثابت ہوں گے۔

شازیہ بشیر نےلاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے ایم فل کی ڈگری کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 42 نیوز اور سٹی42 میں بطور کانٹینٹ رائٹر کام کر چکی ہیں۔