ویب ڈیسک: دہلی کے جنتر منتر پر CJP اور حزبِ اختلاف کے احتجاج کے دوران خواتین سے مبینہ جنسی ہراسانی کے سنگین واقعات سامنے آگئے۔ خواتین مظاہرین نے دہلی پولیس پر جسمانی بدسلوکی، گھسیٹنے اور کپڑے کھینچنے کے الزامات لگائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران گرفتار افراد کی رپورٹنگ کرنے والی تین خواتین صحافیوں نے بھی پولیس اہلکاروں پر نازیبا چھونے کی شکایات کیں۔ شکایت کنندگان نے فوری ایف آئی آر درج کرنے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق، احتجاج کے دوران ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کی تشویش ناک صورتِ حال۔ فراہم کردہ NCRB اعدادوشمار کے مطابق، 2024 میں خواتین کے خلاف 4,41,534 مقدمات درج ہوئے۔ ان اعدادوشمار کے مطابق، بھارت میں خواتین کے خلاف روزانہ تقریباً 1,210 مقدمات درج کیے گئے۔ بھارت میں سال 2024 میں ریپ کے 29,536 مقدمات درج ہوئے، جو خواتین کے تحفظ کی سنگین صورتِ حال ظاہر کرتے ہیں۔
شوہروں یا رشتہ داروں کے مبینہ ظلم سے متعلق 1,20,227 مقدمات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ دہلی میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح قومی اوسط سے تقریباً دوگنا بتائی گئی ہے۔ عوامی مقامات پر ہراسانی اور خواتین کے خلاف تشدد نے بھارت میں خواتین کی سلامتی پر خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ناقدین نے مودی حکومت خواتین کو مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ حزبِ اختلاف نے خواتین کے تحفظ، شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے فوری احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ بھارت میں خواتین کب محفوظ ہوں گی، اور مودی حکومت ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کرے گی؟ ان واقعات نے بھارت میں خواتین کے تحفظ اور پولیس کے احتساب پر سنگین سوالات اٹھا دیے ۔