ویب ڈیسک: بھارت میں بے روزگاری اور ووٹ چوری کے الزامات کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت ملک کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دے رہی ہے۔
دہلی پولیس نے احتجاج سے متعلق سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ بھارتی میڈیا میں پاکستان سے منسلک ایک مبینہ آن لائن نیٹ ورک کے حوالے سے بھی دعوے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان مخالف حلقوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے دوران جعلی ویڈیوز پھیلائے جانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
دوسری جانب، بھارت میں اپوزیشن اور نوجوانوں کے احتجاج کو مبینہ بیرونی مداخلت سے جوڑنے کی کوششوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج کے حق کا تحفظ اور نوجوانوں کو درپیش بنیادی مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
ناقدین کے مطابق، بھارتی میڈیا کے بعض حلقے اور تحقیقاتی ادارے اندرونی سیاسی معاملات میں بیرونی عناصر کے کردار سے متعلق الزامات سامنے لا رہے ہیں، تاہم ایسے دعوؤں کا جائزہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
مجموعی طور پر بھارت میں بے روزگاری، انتخابی شفافیت اور احتجاج کے حق سے متعلق بحث کے دوران پاکستان کے مبینہ کردار پر سامنے آنے والے دعووں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔