پاکستان کو مودی حکومت کی جانب مذاکرات کی پہل نہیں کرنی چاہیے، رپورٹ

پاکستان کو مودی حکومت کی جانب مذاکرات کی پہل نہیں کرنی چاہیے، رپورٹ
کیپشن: Pakistan should not initiate talks with Modi government, reports

ویب ڈیسک: (علی زیدی) ایک حالیہ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کو مودی سرکاری کی جانب مذاکرات میں پہل نہیں کرنی چاہیے۔ تاہم اگر مودی سرکار کی جانب سے پرامن تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا جاتا ہے تو پاکستان اس کا مثبت جواب دے۔

پاکستان کے ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق حالیہ عرصے کے دوران پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے لیکن ماضی جیسی گرم جوشی کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔

صنوبر انسٹی ٹیوٹ اور سینٹر فار لا اینڈ سیکیورٹی کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو بھارت کی طرف مذاکرات کے لیے پہل نہیں کرنی چاہیے۔ تاہم اگر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی پرامن تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں تو اسلام آباد کو اس کا مثبت جواب دینا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے تعلقات کا مرکز راہداری منصوبے ہونے چاہئیں جو کہ پاکستان کو سیکیورٹی اسٹیٹ سے اکنامک اسٹیٹ میں تبدیل کر سکتے ہیں جب کہ ملکی داخلی حالات خاص طور پر سیاسی عدم استحکام، کمزور معیشت اور دوبارہ سر اٹھاتی دہشت گردی کے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستانی تھنک ٹینک کی اس رپورٹ کے اجرا کے لیے گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

مباحثے میں سابق سفیروں، پالیسی ماہرین، تھنک ٹینک اور اکیڈمیا کے محققین بھی شریک تھے۔ کانفرنس کے شرکا نے تسلیم کیا کہ خطے کے علاقائی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں جب کہ چین اور روس کے ساتھ امریکا کا تزویراتی مقابلہ، یوکرین اور غزہ کی جنگیں، یکطرفہ پن کا عروج عالمگیریت جیسے مسائل کثیرالجہتی کی روح کو کمزور کر رہے ہیں۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ ماضی میں ہم سے غلط فیصلے ہوئے ہیں جو اکثر آمر حکمرانوں کے ذاتی مفادات کے لیے کیے گئے تھے اور ان فیصلوں کے بعد ہم نے خود کو تنہا پایا۔

پاکستانی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں خارجہ پالیسی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملکی خارجہ پالیسی کی بنیاد جنگ نہیں امن کے لیے دوستی کے اصول پر ہونی چاہیے۔ پاکستان کو دوسروں کی جنگیں لڑنے میں مشغول نہیں ہونا چاہیے اور قلیل مدتی فوائد اور غیر ملکی امداد سے بچنا چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خارجہ پالیسی کا محور پرامن پڑوسی بنانے پر ہونا چاہیے جس کی بنیاد آزاد اور عملی خارجہ پالیسی ہو جب کہ خارجہ پالیسی کے تمام اہم امور کو پارلیمنٹ میں زیرِ بحث لا کر تنقیدی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ معاشرے کے اندر سے مختلف قسم کی آوازوں اور نقطہ نظر کو سنا جانا چاہیے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اپنے خطاب میں اعتراف کیا کہ طویل عرصے سے پارلیمنٹ میں خارجہ پالیسی پر بحث نہیں ہوئی ہے۔

پاکستان کے ہمسایہ اور روایتی حریف ملک بھارت سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی پاکستان کے ساتھ کچھ رابطے بحال کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو اسلام آباد کو پرامن تعلقات کی خواہش کی اپنی پالیسی کے مطابق اس کا مثبت جواب دینا چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے اقدامات میں ہائی کمشنر سطح کے سفارتی تعلقات کو بحال کرنا، واہگہ کے راستے تجارت، ویزا کے نظام میں نرمی، مذہبی سیاحت کی سہولت اور عوام کے رابطوں کی اجازت دی جانی چاہیے۔

تاہم، اگر مودی حکومت پاکستان کے خلاف اپنا جارحانہ رویہ برقرار رکھتی ہے تو حکومت کو بھارت کی طرف کوئی پہل کرنے کی ضرورت نہیں اور مودی کے کردار کو بے نقاب کرنا جاری رکھنا چاہیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر نریندر مودی حکومت ایک بالادست علاقائی طاقت کے طور پر برتاؤ کرے یا ہندو راشٹر (ریاست) بنائے تو یہ عمل پاکستان اور خطے کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے۔ حکومتِ پاکستان کو بھارت کے انتہا پسندانہ عزائم سے دنیا کو باور کروانا چاہیے۔

Watch Live Public News

کونٹینٹ پروڈیوسر