سینیٹ اجلاس: خواتین قیدیوں کو رہاکرو، پی ٹی آئی اور جے یوآئی ایک پیج پر

سینیٹ اجلاس: خواتین قیدیوں کو رہاکرو، پی ٹی آئی اور جے یوآئی ایک پیج پر
کیپشن: Senate meeting: Release women prisoners, PTI and JUI on one page

ویب ڈیسک: سینیٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی سینیٹرز نے شدید احتجاج کیا اور خواتین قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ایوان سے علامتی واک آوٹ بھی کیا گیا۔ اس موقع پر جے یوآئی نے پی ٹی آئی سینیٹرز کے مطالبہ کی حمایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سینیٹرز نے سینٹ اجلاس کے دوران احتجاج کیا ہے۔ سینیٹرز نے ‘’خواتین کو انصاف دو، خواتین کو رہاکرو’’ کے نعرے لگا دیے۔ احتجاج پی ٹی آئی کی خواتین کو قید میں رکھنے کے خلاف کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ سینیٹرز نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر خواتین کو رہا کرو کے نعرے درج تھے۔

وزیر پارلیمانی امور مرتضی سولنگی کا اظہار خیال:

وزیرپارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین سے تعلیمی وظیفہ کے لئے سالانہ 35ہزار سے 40 ہزار کیسز موصول ہوتے ہیں۔ فی الحال دسمبر 2023 سے جنوری 2024 کے دوران موصول ہونے والے 4997 درخواستوں پر کام ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر درخواستیں اگست اور مارچ میں موصول ہوتی ہیں۔ درخواستوں کے زیر التواء ہونے کی ایک وجہ مطلوبہ سٹاف کی کمی بھی ہے۔ ادارے میں 127 آسامیاں ہیں جبکہ 94 ملازمین کام کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی خواتین کے ساتھ ہونے والے رویہ کی جے یوآئی (ف) کی مذمت:

پی ٹی آئی خواتین کے ساتھ ہونے والے رویہ کی جے یو آئی ف نے مذمت کردی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ خواتین کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ غلط ہے۔ مریم اور فریال کل ہمارے لیے محترم تھی۔ آج یہ خواتین ہمارے لیے محترم ہیں۔ ہم سب کو یکجا کرکے اس معاملے پر آواز اٹھانی چاہیے۔ خواتین کے ساتھ قانون کے مطابق پیش آنا چاہیے۔ 

پی ٹی آئی سینیٹرز کا سینیٹ اجلاس سے واک آؤٹ: 

پی ٹی آئی سینیٹرز سینیٹ اجلاس سے واک آوٹ کرگئے۔ جس پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ محمد آفریدی نے پی ٹی آئی ارکان کو واپس بلانے کے احکامات جاری کردیے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹر مشاہد حسین سید اور سینیٹر پلوشہ آپ ان کو بلاکر لائیں۔ پی ٹی آئی کے سینیٹرز ایوان میں واپس آگئے۔

سینیٹر علی ظفر کا اظہار خیال:

سینیٹر علی ظفر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے واک آوٹ اور احتجاج کیا۔ امید کررہے تھے کہ باقی سینیٹرز بھی ہمارے ساتھ آئیں گے۔ دو ماہ ہوگئے پی ٹی آئی کی خواتین کو انصاف کے بغیر رکھا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی خواتین ایک کیس سے نکلتی ہیں تو دوسرے میں اندر ہوجاتی ہیں۔ عدالتیں ان کو باہر نکالنے میں ناکام ہیں۔

سینیٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ ہماری خواتین کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ کل کو کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہم نے جو علامتی واک آوٹ کیا ہے یہ جمہوریت کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑا افسوس ہوا کچھ دن سے میڈیا پر باتیں ہورہی ہیں۔ آئین میں لکھا ہے مخصوص نشستیں قوانین کے مطابق ملیں گی۔ خواتین اور مینارٹیز کی سیٹیں کے پی کے میں پی ٹی آئی کا حق ہے۔ پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتیں بھی الیکشن کمیشن میں مخصوص نشستوں کا دعوی کررہی ہیں۔ ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ یہ دونوں جماعتیں جمہوریت کے منافی اقدام کررہی ہیں۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ آئین اور قانون کے خلاف ہوگا۔

سینیٹ اجلاس یکم مارچ کی صبح 10 بجے تک ملتوی ہوگیا۔