سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو دو آپشن دے دیئے

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو دو آپشن دے دیئے

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو دو آپشنز دے دیے۔ عدالت نے کہا کہ یا دو دن میں دوبارہ انتخاب پر مان جائیں یا پھر حمزہ شہباز 17 جولائی تک وزیراعلیٰ تسلیم کرلیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دو تین دن کیلئے متبادل انتظام ہو سکتا ہے لیکن لمبے عرصے کیلئے نہیں، آپ اور آپکے امیدوار ہی ایک پیج پر نہیں، پرویز الہی نے جو شرائط رکھیں وہ آپکے اطمینان کیلئے حمزہ پر عائد کی جا سکتی ہیں، عدم اعتماد والے کیس میں عدالت ایسی شرائط عائد کر چکی ہے. اس پر میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ میں نے اسپیکر کیساتھ طے کیا ہے کہ 17 جولائی تک حمزہ وزیر اعلی رہے۔ 17 جولائی تک ضمنی الیکشن کا نتیجہ بھی آجائے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ آپ تو درخواست گزار ہی نہیں ہے۔ مقدمے میں تحریک انصاف کے وکیل بابر ااعوان نے کہا مجھے معاملہ پر پارٹی سربراہ سے ہدایات لینے دیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ محمود الرشید تحریک انصاف کے پنجاب اسمبلی مین پارلیمانی لیڈر ہے۔ دو سے تین دن کا وقت دے سکتے ہیں زیادہ نہیں، پرویز الہی عمران خان سے رابطہ کریں اور آدھے گھنٹے میں آگاہ کریں. بعدازاں عدالت نے پرویز الہی کو اتحادی تحریک انصاف سے مشورہ کرنے اور بابر اعوان کو عمران خان سے ہدایات لینے کا وقت دیدیا. چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس مسئلے کا قانونی حل نکالیں گے، معلوم ہے کہ ایک دن کا وقت بہت کم ہے، قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو عدالتیں موجود ہیں۔

اس سے قبل تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہماری جماعت کا مسلم لیگ ق سے اتحاد ہے، میں پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف سبطین خان کا نمائندہ ہوں، ہم تجویز پر رضامند نہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ پنجاب کے امیدوار ہیں جب انہیں شہباز شریف کے نگران وزیراعلیٰ بننے پر اعتراض نہیں تو پی ٹی آئی کو کیا مسئلہ ہے؟

بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے تو صرف 7 دن مانگے تھے اس طرح آپ کو زیادہ وقت مل رہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی درخواست پڑھیں آپ نے استدعا کیا کی ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹانے کی استدعا بھی کر رکھی ہے، حمزہ شہباز کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔ کیس کی سماعت میں وقفہ فی الحال وقفہ ہے جس کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوگی۔

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے گذشتہ روز 4-1 کی اکثریت سے فیصلہ دیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے یکم جولائی کو شام 4 بجے اجلاس بلایا جائے، حمزہ کو ملنے والے ووٹوں میں سے 25 ووٹ منہا کرکے گنتی کی جائے۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ منحرف ارکان کے 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کی جائے، دوبارہ رائے شماری میں جس کی اکثریت ہوگی وہ جیت جائےگا، اگر کسی کو مطلوبہ اکثریت نہیں ملتی تو آرٹیکل130چار کے تحت سیکنڈ پول ہوگا، 25 ووٹ نکالنے کے بعد اکثریت نہ ملنے پر حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پر قائم نہیں رہیں گے۔

ایڈیٹر

احمد علی کیف نے یونیورسٹی آف لاہور سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ پبلک نیوز کا حصہ بننے سے قبل 24 نیوز اور سٹی 42 کا بطور ویب کانٹینٹ ٹیم لیڈ حصہ رہ چکے ہیں۔