چاہ بہار بندرگاہ پر بھارت ایران کا 10 سالہ معاہدہ،امریکا کی وارننگ

chah bihar india iran agreement
کیپشن: chah bihar india iran agreement
سورس: google

ویب ڈیسک : بھارت  نے ایران کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ کی ترقی اور چلانے کے لیے 10 سال کا معاہدہ کر لیا ہے۔ ایران سے کوئی بھی معاہدہ کرنیوالے پابندیوں کی زدمیں آسکتےہیں امریکا کی وارننگ۔

 رپورٹ  کے مطابق نریندر مودی حکومت کا یہ اقدام مشرق وسطیٰ کے اہم ملک کے ساتھ انڈیا کے سٹریٹیجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔انڈیا خلیج عمان کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع بندرگاہ کو تجارتی اور دیگر سامان ایران، افغانستان اور وسطی ایشائی ممالک ترسیل کے لیے راستے کے طور پر پاکستان کے کراچی اور گوادر پورٹس کے مقابلے ڈیویلپ کرتا رہا ہے۔

تاہم ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے چابہار بندرگاہ کو ڈیویلپ کرنے کا عمل سست روی کا شکار رہا۔
امریکا نے بھارت سمیت عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے معاہدہ کرنے والے پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں 
واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران نائب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ویدانت پاٹیل کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے والے ممالک پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں ،نائب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیاں برقرار ہیں،اور ان کا نفاذ جاری رہے گا۔ ایران سے معآہدہ کرنے والوں کو ممکنہ خطرات سے دوچار رہنا چایئے۔
انڈیا کے وزیر جہاز رانی سربانندا سونوال کا تہران میں معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد کہنا تھا کہ ’ چابہار پورٹ کی اہمیت انڈیا اور ایران کو ملانے والی آبی گزگاہ سے زیادہ ہے، یہ انڈیا، افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو ملانے والا اہم تجارتی گزرگاہ ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘اس ربط نے تجارت کے لیے کئی راستے کھولا ہے اور پورے خطے میں سپلائی چین کو مزید مستحکم کیا ہے۔‘
دونوں ممالک کے حکام کے مطابق طویل مدتی معاہدہ انڈین پورٹ گلوبل لمیٹیڈ  (مطابق آئی پی جی ایل) اور پورٹ اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن آف ایران کے درمیان ہوا ہے۔
ایران کے وزیر برائے روڈز اور اربن ڈیلولپمنٹ مہر دار بزرپوش کا کہنا ہے معاہدے کے مطابق آئی پی جی ایل بندرگارہ پر 12 کروڑ کی سرمایہ کاری کرے گی اور اضافی 25 کروڑ ڈالر کی فنانسنگ فراہم کی جائے گی جس کے بعد معاہدے کی کل مالیت 37 کروڑ ڈالر ہو جائے گی۔
انڈین حکام کے مطابق آئی پی جی ایل نے پہلی مرتبہ چابہار بندرگاہ آپریشن کا انصرام 2018 میں سنبھال لیا تھا اور اس کے بعد سے کئی ملین ٹن کنٹینر ٹریفک اور عام کارگو ہینڈیل کیا ہے۔
ان کا کہنا ہےانڈیا نے چاہ بہار سے 25 لاکھ ٹن گندم اور دو ہزار ٹن دالیں افغانستان بھجوا چکا ہے۔
ممبئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بندرگاہ میں بڑی سرمایہ کاری کا راستہ ہموار کرے گا۔