عالمی حقوق گروپ ISHR نے نئی دہلی میں پُرامن طلبہ مارچ کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن کا معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھا دیا

عالمی حقوق گروپ ISHR نے نئی دہلی میں پُرامن طلبہ مارچ کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن کا معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھا دیا
کیپشن: عالمی حقوق گروپ ISHR نے نئی دہلی میں پُرامن طلبہ مارچ کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن کا معاملہ اقوام متحدہ کے سامنے اٹھا دیا

ویب ڈیسک: 20 جولائی 2026 کو طبی داخلہ امتحانات میں مبینہ بڑے پیمانے پر پیپر لیکس کے خلاف نئی دہلی میں مارچ کرنے والے ہزاروں طلبہ کے خلاف بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائی پر انٹرنیشنل سروس فار ہیومن رائٹس ( ISHR) نے بھارتی حکام کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کیا۔ فراہم کردہ متن کے مطابق، پولیس کارروائی میں مبینہ طور پر دھاتی پیلٹ گنز، برقی جھٹکوں اور کیل لگی لاٹھیوں کا استعمال کیا گیا، جبکہ کم از کم 60 طلبہ زخمی ہوئے۔

  نئی دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے دھاتی پیلٹ گنز، برقی جھٹکوں اور مبینہ طور پر کیل لگی لاٹھیوں کے استعمال کے الزامات سامنے آئے۔ غیر مسلح طلبہ کے ہجوم پر دھاتی پیلٹس فائر کیے جانے کے الزامات نے پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔ طبی داخلہ امتحانات میں مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کو پولیس کارروائی کے دوران شدید جسمانی چوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے والے طلبہ کے احتجاج کو روکنے کے لیے کارروائی پر انسانی حقوق اور شہری آزادیوں سے متعلق خدشات سامنے آئے۔  انٹرنیشنل سروس فار ہیومن رائٹس نے مبینہ پولیس تشدد اور احتجاج کے حق سے متعلق معاملہ اقوام متحدہ کے متعلقہ انسانی حقوق نظام کے سامنے اٹھایا۔ فراہم کردہ دعوے کے مطابق، 2016 سے 2019 کے دوران کشمیر میں پیلٹ فائرنگ سے ہزاروں افراد زخمی اور بڑی تعداد میں افراد متاثر ہوئے۔ گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں متعدد مسابقتی امتحانات پیپر لیکس، بے ضابطگیوں یا انتظامی وجوہات کے باعث منسوخ یا مؤخر کیے گئے، جس سے لاکھوں امیدوار متاثر ہوئے۔ 2024 کے طبی داخلہ امتحان سے متعلق تنازع کے بعد طلبہ کی خودکشیوں کے واقعات نے امتحانی نظام، ذہنی دباؤ اور انتظامی ناکامیوں پر بحث کو جنم دیا۔

بھارتی انسانی حقوق اداروں کے اعداد و شمار میں پولیس حراست کے دوران اموات کے متعدد واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے احتساب پر سوالات اٹھتے ہیں۔ پُرامن احتجاج کے دوران طاقت کے مبینہ ناجائز استعمال نے بھارت میں شہری آزادیوں، اجتماع کے حق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جواب دہی سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا۔

Watch Live Public News