کراچی:ماہی گیروں کےجال میں پھر اربوں روپے کی ’سوا‘ مچھلی پھنس گئی

کراچی:ماہی گیروں کےجال میں پھر اربوں روپے کی ’سوا‘ مچھلی پھنس گئی
کیپشن: کراچی:ماہی گیروں کےجال میں پھر اربوں روپے کی ’سوا‘ مچھلی پھنس گئی

پبلک نیوز: کراچی کے قریب کیٹی بندر کے ماہی گیروں پر قسمت کی دیوی مسلسل مہربان، ماہی گیروں کے جال میں پھر نہایت قیمتی اور نایاب اربوں روپے مالیت کی ’سوا‘ مچھلی آ گئی۔

تفصیلات کے مطابق کوسٹل میڈیا سینٹر کے ترجمان کمال شاہ کا کہنا ہے کہ جال میں پرسوں ’سوا‘ مچھلی کا بڑا کیچ آیا ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ 3 کشتیوں کو ’سوا‘ مچھلی کے 700 دانے ملے ہیں۔مچھلیوں کی قیمت مارکیٹ میں ایک ارب کے قریب بتائی جارہی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تیکنیکی مشیر معظم خان کے مطابق سوا مچھلی مارچ اپریل میں انڈے دینے کے لیے جمع ہوتی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں شکار سے ’سوا‘ مچھلی کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔

https://publicnews.com/uploads/digital_news/2024-03-22/news-1711082383-1759.mp4

API Response: No news found against this URL: https://publicnews.com/uploads/digital_news/2024-03-22/news-1711082383-1759.mp4

https://publicnews.com/uploads/digital_news/2024-03-22/news-1711082492-2579.mp4

API Response: No news found against this URL: https://publicnews.com/uploads/digital_news/2024-03-22/news-1711082492-2579.mp4

https://publicnews.com/uploads/digital_news/2024-03-22/news-1711082507-3666.mp4

API Response: No news found against this URL: https://publicnews.com/uploads/digital_news/2024-03-22/news-1711082507-3666.mp4

سوا مچھلی کا سائز اور وزن
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے معاون محمد معظم کے مطابق ’سوا‘ مچھلی کروکر نسل سے تعلق رکھتی ہے۔
اس کو سندھی میں ’سوّا‘ اور بلوچی میں ’کر‘ کہا جاتا ہے جبکہ اس کا سائنسی نام ارگائیروسومس جیپونیکس ہے۔
اس کا سائز ڈیڑھ میٹر تک ہو سکتا ہے جبکہ وزن 30 سے 40 کلو بھی ہو سکتا ہے۔ یہ پورا سال ہی پکڑی جاتی ہے لیکن نومبر سے مارچ تک اس کی دستیابی آسان ہو جاتی ہے کیونکہ یہ بریڈنگ سیزن ہے۔

 سوا مچھلی کی طبی اہمیت
یہ مچھلی ہانگ کانگ ایکسپورٹ کی جاتی ہے ۔اس میں ایک قسم کا دھاگہ نکلتا ہے جو آپریشن میں لگائے جانے والے ٹانکے بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
چین کی بعض روایتی ادویات میں بھی سوّا کے پوٹے کے استعمال کا حوالہ ملتا ہے جس میں جوڑوں کے درد اور جنسی کمزوریاں شامل ہیں۔

 مچھلی کا پوٹاسونے سے بھی مہنگا 
سوا مچھلی کے مہنگے ہونے کی وجہ اس میں موجود ایئر بلیڈر ہے جسے مقامی زبان میں ’پوٹا‘ کہتے ہیں۔
اس کے ذریعے یہ پانی میں اوپر نیچے آتی جاتی ہے۔ یہ بلیڈر تمام مچھلیوں میں ہوتے ہیں لیکن کروکر میں تھوڑے موٹے اور تندرست ہوتے ہیں۔
پوٹے کی چینی روایتی کھانوں میں بڑی اہمیت ہے۔ اس کے علاوہ یہ شان و شوکت کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ جس طرح ہمارے یہاں لوگ گھروں میں سونا رکھتے ہیں، چینی اس سوکھے پوٹے کو اپنے گھر میں رکھتے ہیں۔
جب ضرورت پڑتی ہے تو ہم سونا فروخت کر دیتے ہیں۔ اس طرح چینی بوقت ضرورت اس کو فروخت کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے سوا مچھلی کی قیمت بہت زیادہ ہوجاتی ہے۔

Watch Live Public News