فیصل واوڈا نااہلی کیس، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

فیصل واوڈا نااہلی کیس، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا
اسلام آباد: ( پبلک نیوز) الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹر فیصل واوڈا کی نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ تفصیل کے مطابق الیکشن کمیشن میں سینیٹر فیصل واووڈا نااہلی کیس کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار عبدالقادر مندوخیل کا کہنا تھا کہ آج اس کیس کی 23ویں سماعت ہے۔ کمیشن ڈیڑھ سال سے جواب مانگ رہا ہے، جو نہیں دیا گیا۔ عبدالقادر مندوخیل کا کہنا تھا کہ الیکشن 2018ء میں ریٹرننگ افسر نے دوہری شہریت پر غلط حکم دیا۔ فیصل واوڈا کے بجائے ریٹرننگ افسر نے میرے کاغذات مسترد کر دیے۔ ممبر بلوچستان شاہ محمد نے عبدالقادر مندوخیل سے کہا کہ آپ نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ ٹربیونل میں چیلنج کیوں نہیں کیا؟ براہ راست الیکشن کمیشن میں فیصلہ چیلنج کرنے پر مطمئن کریں۔ فیصل واوڈا کے وکیل کا کہنا تھا کہ عبدالقادر مندوخیل نے میڈیا ٹرائل کیلئے جان بوجھ کر غلط فورم سے رجوع کیا۔ فیصل واووڈا ایم این اے نہیں رہے تو اس درخواست پر نااہلی کیسے ہو سکتی ہے؟ نادرا آئی بی سے تصدیق کرانے کے بعد ہی شناختی کارڈ جاری کرتا ہے۔ وکیل نے پیدائش کا سرٹیفکیٹ کمیشن میں جمع کرواتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا پیدائشی طور پر امریکی شہری ہیں اور ریاست کیلیفورنیا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔ کاغذات نامزدگی جمع کروانے سے قبل فیصل واوڈا نے غیر ملکی پاسپورٹ منسوخ کروا دیا تھا۔ ریٹرننگ افسر کے آرڈر میں لکھا ہے کہ فیصل واوڈا کا غیر ملکی پاسپورٹ منسوخ شدہ تھا۔ اس پر سندھ سے الیکشن کمیشن کے ممبر نے فیصل واوڈا کے وکیل سے پوچھا کہ پاسپورٹ منسوخ کروانے کی تاریخ بتائیں۔ جبکہ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ کیا پاسپورٹ منسوخ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ شہریت ختم ہو گئی؟ وکیل فیصل واوڈا نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کو پاسپورٹ منسوخی کی دستاویزات بھی فراہم کی تھیں۔ دوہری شہریت کے حامل افراد کو نائیکوپ ملتا ہے، شناختی کارڈ نہیں۔ نادرا نے 29 مئی 2018ء کو فیصل واوڈا کا نائیکوپ منسوخ کرکے شناختی کارڈ جاری کیا۔ فیصل واووڈا نے نادرا کی جانب سے صرف پاکستانی شہری ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کر دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ دیکھنا ہوگا کہ نادرا ایسا سرٹیفکیٹ جاری کر بھی سکتا ہے یا نہیں؟ جواب آئے نہ آئے آپ اپنی بات مکمل کریں، مزید مہلت نہیں دینگے، چیف الیکشن کمشنر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ بطور ایم این اے امیدوار مجھے قانون کا اتنا علم نہیں تھا۔ مجھے بلاوجہ گھسیٹا جا رہا ہے، مخالفین کسی ٹربیونل میں نہیں گئے۔ ایسا کوئی دوہری شہریت والا نہیں جس کے پاس عام شناختی کارڈ ہو۔ دوہری شہریت کا حامل عام شناختی کارڈ رکھنے والا بنک اکائونٹ بھی نہیں کھول سکتا۔